سکینہ اِیتو نے جموںوکشمیر یونیورسٹیوں کی تعلیمی سرگرمیوں ، تحقیقی اقدامات اور اِدارہ جاتی ترقی کا جائزہ لیا

سکینہ اِیتو نے جموںوکشمیر یونیورسٹیوں کی تعلیمی سرگرمیوں ، تحقیقی اقدامات اور اِدارہ جاتی ترقی کا جائزہ لیا

یونیورسٹیوں کو تحقیق ، اِختراع او رفکری قیادت کے مراکز قرار دیا اوراعلیٰ تعلیم میں بہترین کارکردگی کیلئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا

جموں// وزیر برائے تعلیم، سماجی بہبود، صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے آج کہا کہ حکومت جموں و کشمیر میں اعلیٰ تعلیمی شعبے کو مضبوط بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔اُنہوں نے اِس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ویژن یہ ہے کہ جموں و کشمیر کو معیاری اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی برتری کا مرکز بنایا جائے۔اُنہوں نے اِن باتوں کا اِظہار آج جموں و کشمیر کی تمام یونیورسٹیوں کی تعلیمی کارکردگی، تحقیقی اقدامات اور اِدارہ جاتی ترقی کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔میٹنگ میں وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر اومیش رائے، وائس چانسلر کشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان، وائس چانسلر شری ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی پروفیسر پرگتی کمار، وائس چانسلر اِسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر شکیل احمد رامشو، وائس چانسلر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی پروفیسر جاوید اِقبال، وائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی جموں ڈاکٹر کے ایس چندر شیکھر، وائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی سری نگر پروفیسر محمد مبین، ڈین ریسرچ جموں یونیورسٹی، رجسٹرار اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ دوران میٹنگ وزیر سکینہ اِیتو نے جموں و کشمیر کی یونیورسٹیوں میں جاری تعلیمی سرگرمیوں، تحقیقی نتائج، فیکلٹی ڈیولپمنٹ پروگراموں، بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور طلبأ پر مرکوز اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔اُنہوں نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ یونیورسٹیوں کو صرف ڈِگریاں دینے والے اِداروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔وزیر تعلیم نے کہا،’’یونیورسٹیاں اِختراع کے محرک، علم کی تخلیق کے مراکز اور معاشرتی تبدیلی کے ستون ہوتے ہیں۔ انہیں ایسے متحرک تعلیمی ماحول میں تبدیل ہونا چاہیے جہاں خیالات کو فروغ ملے، تحقیق کو تقویت حاصل ہو اور نوجوان ذہن مستقبل کی تشکیل کے لئے بااختیار بنیں۔‘‘اُنہوں نے جموں و کشمیر میں مضبوط تحقیقی کلچر کو پروان چڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وائس چانسلروں کو ہدایت دی کہ وہ خطے کی مخصوص ضروریات کے مطابق ترجیحی تحقیقی شعبوں کی نشاندہی کریں۔ اُنہوں نے زور دیا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ دیرپا ترقی،موسمیاتی لچک، زرعی اِختراع، سیاحت کے مطالعے، ٹیکنالوجی کے انضمام اور سماجی سائنس کی تحقیق پر توجہ دی جائے جو جموں و کشمیر کے منفرد معاشرتی و اِقتصادی منظرنامے سے متعلق ہو۔وزیر موصوفہ نے جاری تحقیقی منصوبوں، پیٹنٹ فائلنگ اور تحقیقی اشاعتوں کا بھی جائزہ لیا اوریونیورسٹیوں کو ہدایت دی کہ وہ انکوبیشن سینٹروں، سٹارٹ اپ ایکو سسٹمز اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے مؤثر نظام کو فروغ دیں تاکہ تحقیقی خیالات کو عملی شکل دی جا سکے۔وزیر سکینہ اِیتو نے تحقیق پر مبنی نصاب کے فروغ کا اعادہ کرتے ہوئے نصاب کی جدید کاری، معیار کی یقین دہانی اور نتائج پر مبنی تعلیمی نظام کو اَپنانے پر زور دیا۔ اُنہوں نے ڈیجیٹل لرننگ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، ہنر پر مبنی پروگراموں کو وسعت دینے اور فیکلٹی کی مسلسل تربیت کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی تاکہ تعلیمی و تکنیکی ترقی کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رہے۔اُنہوں نے یونیورسٹی اِنتظامیہ پر زور دیاکہ طلبأ کی معاونت کے نظام کو بہتر بنانے، جامع تعلیم کو فروغ دینے اور دُور دراز و پسماندہ علاقوں کے طلبأ کے لئے اعلیٰ تعلیم تک رَسائی بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔وزیرتعلیم نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں، کیمپس کے توسیعی منصوبوں، ہوسٹل سہولیات اورسمارٹ کلاس روم اقدامات کا بھی جائزہ لیا ۔اُنہوں نے اِدارہ جاتی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے شفاف حکمرانی، مؤثر اِنتظامیہ اور وسائل کے زیادہ سے زیادہ اِستعمال کی اہمیت پر زور دیا۔اُنہوں نے قابلِ پیمائش پیش رفت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے یونیورسٹیوں کو ہدایت دی کہ تحقیق اور اختراعی نتائج کی نگرانی کے لئے منظم نگرانی کا طریقۂ کار قائم کریں۔وزیر سکینہ اِیتو نے کہا،’’ہمارا مقصد جموں و کشمیر کو معیاری اعلیٰ تعلیم اور تحقیقی برتری کا مرکز بنانا ہے۔ اپنی یونیورسٹیوں کو با اختیار بنا کر حکومت اس علمی سرمایہ کاری میں سرمایہ کاری کر رہی ہے جو دیرپا ترقی اور سماجی ترقی کو آگے بڑھائے گی۔‘‘اُنہوں نے اِس بات کی یقین دہانی بھی کی کہ حکومت تحقیق کے لئے فنڈنگ، بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور صلاحیت سازی کے اَقدامات جاری رکھے گی تاکہ جموں و کشمیر کی یونیورسٹیوں کو قومی اور بین الاقوامی معیار تک پہنچایا جا سکے۔ دورانِ میٹنگ رجسٹراروںنے ادارہ جاتی پیش رفت کی رپورٹیں پیش کیں اور مستقبل کے تعلیمی و تحقیقی روڈ میپ کا خاکہ بھی پیش کیا جو جموں و کشمیر کے اعلیٰ تعلیمی منظر نامے کو تبدیل کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔