بارہمولہ//وزیربرائے صحت و طبی تعلیم، سماجی بہبود اور تعلیم سکینہ اِیتو نے گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) بارہمولہ کا دورہ کیا اوراِس ہسپتال میں صحت سہولیات، مریضوںکی خدمات اور بنیادی ڈھانچے کا جائزہ لینے کے لئے ایک میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں ممبر اسمبلی بارہمولہ جاوید حسن بیگ، رُکن قانون ساز اسمبلی سوپور اِرشاد رسول کار، ممبر قانون ساز اسمبلی واگورہ کریری ایڈوکیٹ عرفان حفیظ لون، ممبر اسمبلی اوڑی ڈاکٹر سجاد شفیع، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر، پرنسپل جی ایم سی بارہمولہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر بارہمولہ اور دیگر اعلیٰ اَفسران موجود تھے۔وزیر موصوفہ نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مریضوں کی خدمات کی بہتری، سروس ڈیلیوری کو منظم بنانے اور محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہر شہری تک معیاری صحت سہولیات پہنچ سکیں۔ اُنہوں نے کہا، ’’صحت ایک بنیادی حق ہے اور حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔ اِس اہم شعبے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘‘اُنہوں نے طبی عملے سے کہا کہ وہ مریضوں کے ساتھ ہمدرد اور دوستانہ رویہ اِختیار کریں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ شفافیت اور خدمت میں دیانتداری کو یقینی بنانا اوّلین ترجیح ہونی چاہیے اور سرکاری ڈاکٹروں کو نجی پریکٹس کے بجائے اَپنی سرکاری ذمہ داریوں کو ترجیح دینی چاہیے۔سکینہ اِیتو نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت صحت شعبے کو ترقی دینے پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 25 کروڑ روپے کی لاگت سے ایم آر آئی( تھری ٹیسلا) اور 12.50 کروڑ روپے کی لاگت سے کیتھ لیب جی ایم سی بارہمولہ میں موجودہ مالی برس کے دوران قائم کی جائیں گی۔ اِن سہولیات سے شمالی کشمیر اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو تشخیصی اور علاج معالجے کی جدید سہولیات میسر آئیں گی۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جی ایم سی بارہمولہ کو تقریباً 50 کنال زمین منتقل کی گئی ہے جس پر علیحدہ او پی ڈی بلاک اور ڈائیگناسٹک بلاک قائم کیا جائے گا تاکہ ہسپتال میں صحت خدمات کا معیار مزید بہتر ہو۔وزیر موصوفہ نے یہ بھی کہا کہ سب ڈِسٹرکٹ ہسپتالوں اور کمیونٹی ہیلتھ سنٹرز میں ڈائیلاسز سہولیات،اے آئی پر مبنی ایکسرے مشینیں اور دیگر طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ جلد ہی جی ایم سی بارہمولہ میں ڈیجیٹل ایکسرے کی سہولیت بھی دستیاب ہو گی۔ دورانِ میٹنگ مختلف ممبران قانون ساز اسمبلی نے صحت شعبے سے متعلق اہم مسائل اُٹھائے جن میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹی فہرست، چوبیس گھنٹے موجودگی، اِنسانی وسائل کی کمی اور ہسپتالوں میں صفائی ستھرائی کو بہتربنانے کی ضرورت شامل ہیں۔اِس سے قبل جی ایم سی کے نمائندوں نے ادارے کی صحت سہولیات، مریضوں کی تعداد، عملے کی تعیناتی، بنیادی ڈھانچے اور جاری ترقیاتی کاموں پر مبنی تفصیلی پرزنٹیشن پیش کی۔










