Nayeem Ul Haq

سکھ طبقہ کے افراد کا سول سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا

مہلوک پرنسپل کو انصاف فراہم کرنے کی مانگ

سری نگر/نعیم الحق//سول سیکریٹریٹ کے باہر مہلوک پرنسپل سپندر کی میت کے ہمراہ سینکڑوں سکھوں نے احتجاجی ریلی نکالی اور دھرنا دے کرانصاف فراہم کرنے کی مانگ کی ہے۔ جمعہ کو آلوچی باغ سرینگر سے جمعہ کو سینکڑوں سکھوں ، جن میں مہلوک پرنسپل کے لواحقین، رشتہ دار اور اساتذہ شامل تھے، نے آلوچی باغ سے ستندر کور کی میت بھی ساتھ تھی، نے پیدل مارچ کرکے سول سیکریٹریٹ سرینگر تک پہنچ گئے اورسڑک پر خاموش دھرنا دے کر مہلوک پرنسپل کیلئے انصافی کی مانگ کی۔ اس موقعہ پر سکھوںنے مہلوک پرنسپل کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی مانگ کی۔ مہلوک پرنسپل کی رہائش گاہ آلوچی باغ سے سپندر کول کی میت کے ہمراہ لواحقین، رشتہ دار اور سینکڑوں سکھوں نے پیدل چل کر سول سیکریٹری کے باہر احتجاج کیا اور انصاف دینے کی مانگ کی۔ سکھ طبقہ سے وابستہ افراد نے سول سیکریٹریٹ احاطہ کے باہردھرنے پر بیٹھ گئے اور قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ سینئر پولیس افسران نے پہنچ کر سپندر کور کے لواحقین کو اس بات کیلئے راضی کیا کہ وہ آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے میت کو شمشان گھاٹ بٹہ مالو لے جائے ۔ اس موقعہ پر لواحقین نے انصاف دلانے اورقاتلوں کو سخت سے سخت سزا دینے کی مانگ کی۔ پولیس کی یقین دہانی کے بعد لواحقین میت کو آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے راضی ہوگئے۔اس دوران احتجاج میں شامل سکھوں نے بتایا ہم ایک ساتھ یہاں جئے گئے اور مر گئیں ،لیکن اکثریتی طبقے کے معزز اشخاص کو اس بارے میں مساجد میں یہ پیغام دینا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں اسلام اور انسانیت کے خلاف ہیں ۔ انہوں نے کہا جس دن کے ترنگا لہرانے کی بات چل رہی ہے اس دن مزکورہ خاتون سکول میں نہیں تھی کیوں کہ ان کا کوئی رشتہ دار فوت ہوا تھا ۔احتجاج میں شامل کچھ معزز لوگوں نے بتایا ترنگا اب کی بار ہر ایک جگہ لہرایا گیا ہے پھر لاکھوں لوگوں کو مارنا ہے انہوں نے بتایا ہم اس گلستان سے نکلنے والے نہیں ہیں اور اگر نکلیں گے بھی تو یہاں بر باد کر کے نکلیں گے ۔