A world-renowned craniomaxillofacial surgeon will visit Skimms Medical College in May

سکمزکی بروقت علاج میں ناکامی،مریضوں کو مہینوں کے بعد تشخیص کیلئے تاریخ ملتی ہے

سرینگر//شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں پہلی بار آنے والے مریضوں کو تو ڈاکٹروں سے مشورہ کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، لیکن بعد کی ملاقاتوں میں تین سے چار مہینے کی تاخیر ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے مریض شدید مشکلات کا شکار ہیں۔جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کی ایک مریضہ نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوے کہا کہ ستمبر میں سکمزکا دورہ کیا، جہاں انہیں ایک ماہ کے لیے دوائیں دی گئیں اور دوبارہ معائنہ کے لیے آنے کی ہدایت کی گئی۔ تاہم، جب وہ دوبارہ آئیں تو اسپتال کے عملے نے انہیں ایک رسید دی جس میں انہیں چار مہینے بعد آنے کی ہدایت کی گئی۔یہ مسئلہ انفرادی نہیں ہے، بلکہ متعدد مریض مختلف بیماریوں کے علاج کے لیے طویل انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ مریض اسپتال کے قواعد و ضوابط سے پریشان اور کنفیوز ہیں، ایک مریض نے کہا کہ انہوں نے کبھی کسی دوسرے اسپتال میں ایسی تاخیر کا تجربہ نہیں کیا۔ایک مریض نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا”یہ ناقابل قبول ہے،” “میں نے کبھی کسی دوسرے اسپتال میں ایسی تاخیر کا سامنا نہیں کیا۔ اسپتال کے انتظامیہ کو اس نظام پر دوبارہ غور کرنا چاہیے تاکہ مریضوں کو بروقت طبی توجہ مل سکے۔”سکمز، جو اپنی ایمرجنسی خدمات اور تشخیصی سہولیات کے لیے مشہور ہے، بشمول 24/7 ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ اور جدید امیجنگ ٹیکنالوجیز، صحت کی سہولیات فراہم کرنے میں اپنی ذمہ داریوں میں ناکام ہو رہا ہے۔دور دراز علاقے کے ایک مریض نے کہا کہ اسپتال کے انتظامیہ اس نظام کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دیتے، جس سے مریض یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اس پالیسی کے پیچھے کیا منطق ہے۔مریضوں نے اسپتال کی انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس نظام کا جائزہ لیں اور اسے تبدیل کریں تاکہ بروقت طبی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جا سکے۔ایک گروپ نے کہا۔”یہ ضروری ہے کہ SKIMS ان خدشات کا حل نکالے اور اپنے اپوائنٹمنٹ سسٹم پر وضاحت فراہم کرے تاکہ مریضوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے،” اسپتال کی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوششیں کی گئی تاہم رابطہ قائم نہ ہو سکا۔