جموں//سپیکر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی عبدالرحیم راتھر نے کے ایل سیگل ہال رائٹرز کلب جموں میںتین روزہ 46ویں سالانہ اَدبی کانفرنس کا اِفتتاح کیا۔اِس کانفرنس کا اِنعقاد جموںوکشمیر کے اَدبی مرکز کمراز نے جموںوکشمیر اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لنگویجز کے اشتراک سے کیا ہے جس میں مختلف لسانی پس منظر کے شعرأ ، ادیب اور اَدبی شخصیات بھی حصہ لیں گے۔اِفتتاحی سیشن میں صدر اَدبی مرکز کمراز نے مہمانِ خصوصی کا رسمی طور پر خیرمقدم کیا اور مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کی اہمیت کو ثقافتی شناخت اور ورثے کے لازمی حصے کے طور پر اُجاگر کیا۔اِس موقعہ پرسپیکر موصوف نے خطاب کرتے ہوئے کانفرنس کوایک تاریخی اقدام قرار دیا جس کا مقصد جموں و کشمیر میں لسانی تنوع اور ثقافتی بیداری کو مضبوط کر نا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد یہ ہے کہ علاقائی ادبی روایتوں کے تحفظ، پہچان اورتقریب کے بارے میں مکالمے کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جائے اور نوجوانوں کو اُن کی ثقافتی جڑوں سے جُڑنے کی ترغیب دی جائے۔
سپیکر عبدالرحیم راتھر نے اِس بات پرزور دیا کہ نوجوانوں کی شمولیت کانفرنس کے مقاصد کا مرکزی جزو ہے کیوں کہ یہ سیشن نوجوان شرکأ میں ثقافتی شناخت، ورثے اور بڑھتی ہوئی گلوبلائزڈ دنیا میں لسانی تعلق کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لئے ڈیزائن کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے لسانی کثرت اور مختلف ادبی کمیونٹیوں کے درمیان باہمی احترام کو فروغ دینے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی مختلف علاقائی زبانوں کے نمائندوں کو علاقائی لسانی روایات کے تحفظ اور آگے بڑھانے میں ان کے تعاون کو تسلیم کرتے ہوئے اعزاز سے نوازا۔اِدارہ کے جنرل سیکرٹری نے سالانہ رپورٹ پیش کی جس میں گزشتہ برس ادارے کی ادبی، ثقافتی اور علمی سرگرمیوں اور آئندہ لسانی تنوع اور ادبی شرکت کو تقویت دینے کے لئے مستقبل کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا گیا۔اِس موقعہ پر مختلف زبانوں کے شعرأ نے اپنی شاعری پیش کی جو جموں و کشمیر کی متنوع لسانی روایات اور ثقافتی اظہار کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔اِس موقعہ پرایڈیشنل سیکرٹری کلچر ل اکیڈیمی لال چند،سرپرست اَدبی مرکز کمراز ڈاکٹر رفیق مسعودی سمیت مختلف زبانوں کے شعرأ ، ڈرامہ نگار، ناول نگار اور ادیب بھی موجود تھے اور اُنہوں نے کثیر لسانی اَدبی ثقافت کو فروغ دینے اور خطے میں بین لسانی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوششوں کو سراہا۔یہ کانفرنس اَگلے دو دنوں تک اَدبی سیشنز ، شاعرانہ کلام اور ثقافتی تعاملات کے ساتھ جاری رہے گی جس میںیونین ٹیریٹری کے ممتاز ادبی شخصیات شامل ہوںگی۔










