بڈگام اور نگروٹہ اسمبلی حلقوں کی حتمی اِنتخابی فہرستیں شائع
سری نگر//جموںوکشمیر کے دو اسمبلی حلقوں ضلع بڈگام میں 27۔بڈگام اور جموں ضلع میں77 ۔ نگروٹہ کے لئے سپیشل سمری رویژن 2025 جس کی کوالیفائنگ تاریخ یکم ؍ اپریل 2025 ء مقر ر تھی ،مکمل ہوگئی ۔ اِن دونوں حلقوں کی حتمی اِنتخابی فہرستیں آج 5؍ مئی 2025 ء کو متعلقہ اِنتخابی رجسٹریشن اَفسران کی جانب سے شائع کی گئیں اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے حوالے کی گئیں۔ نظرثانی سرگرمیوں سے قبل 27۔بڈگام اور 77۔نگروٹہ اسمبلی حلقوں کے پولنگ سٹیشنوں کی ریشنلائزیشن مکمل کی گئی جس کے نتیجے میں بڈگام ا سمبلی حلقہ میں 17 پولنگ سٹیشنوں اور نگروٹہ اسمبلی حلقہ میں 5پولنگ سٹیشنوں کا اِضافہ ہوا۔ اِس طرح پولنگ سٹیشنوں کی کُل تعداد بالترتیب 173 اور 150 ہوگئی ہے۔یہ نظرثانی عمل گھر گھر تصدیق، نوجوان رائے دہندگان (18۔19 برس)، خواتین، جسمانی طور خاص اَفراد، بزرگ شہریوں اور پسماندہ طبقات کے لئے خصوصی رَجسٹریشن مہمات پر مشتمل تھا جسے سویپ( ایس وِی اِی اِی پی) پروگرام کے تحت عوامی بیداری مہمات کے ذریعے فروغ دیا گیا تاکہ تمام اہل شہریوں کی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔اَپنی نوعیت کی پہلی ایک جدید ترین موبائل وین ’’ڈیموکریسی آن وہیلز‘‘ جو چیف الیکٹورل آفیسر جموں و کشمیر اور جموں و کشمیر بینک کے اِشتراک سے فراہم کی گئی، کے ذریعے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (اِی وِی ایم) کے اِستعمال، ووٹنگ کے طریقہ کار، اِی پی آئی سی کارڈ کے حصول اورآئی سی ٹی ایپس جیسے ووٹر ہیلپ لائن ایپ اورسی۔ ویجل کے بارے میں بیداری پید ا کی گئی ۔ یہ وین بالخصوص تعلیمی اِداروں میں اِستعمال کی گئی۔اِنتخابی فہرستیں اَب متعلقہ ضلعی اِنتخابی دفاتر، الیکٹورل رجسٹریشن اَفسران، متعلقہ اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن اَفسران کے ساتھ ساتھ پولنگ سٹیشنوں کے دفاتر میں عوامی جانچ کے لئے دستیاب ہیں۔ آن لائن رَسائی سی اِی او جموں وکشمیر کی سرکاری ویب سائٹ https://ceojk.nic.in پر بھی دستیاب ہے۔چیف الیکٹورل آفیسر جموں و کشمیر نے بڈگام اور نگروٹہ کے تمام رائے دہندگان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حتمی فہرستوں میں اَپنے ناموں کی جانچ کریں اور کسی بھی غلطی کی صورت میں متعلقہ بی ایل او اور اِی آر او کو اطلاع دیں ۔ اگر کسی شخص کو اِی آر او کے کسی فیصلے سے شکایت ہو، تو وہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 24(اے) کے تحت متعلقہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے اپیل دائرکر سکتا ہے۔چیف الیکٹورل آفیسر نے اِنتخابی عملے، سیاسی جماعتوں، میڈیا، سول سوسائٹی اور شہریوں کا شکریہ اَدا کیا جنہوں نے اس نظرثانی عمل کو کامیاب بنانے میں بھرپور تعاون کیا۔










