حیدرآباد : کانگریس کے رکن راجیہ سبھا اور نامور قانون داں ابھیشک منو سنگھوی نے وقف ترمیمی قانون پر سپریم کورٹ کے عبوری احکامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوںکی شناخت ، ان کے اداروں کی خود مختاری اور دستوری اصولوں پر حملہ تھا جس پر سپریم کورٹ نے روک لگادی ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ابھیشک منو سنگھوی جنہوں نے سپریم کورٹ میں نئے قانون کے خلاف دلائل پیش کئے، کہا کہ کانگریس پارٹی نے دستور کے تحفظ کیلئے جو مہم چھیڑ رکھی ہے، سپریم کورٹ سے عارضی کامیابی حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی کی جیت یا ہار کے طور پر نہیں بلکہ دستوری اصولوں کے تحفظ اور ان کی پاسداری کی حیثیت سے دیکھا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک منصوبہ بند طریقہ سے وقف جائیدادوں کی نگہداشت اور وقف اداروں انصرام کے خلاف منصوبہ بند حملہ کیا گیا تھا ۔ دستور کی دفعہ 26 کا حوالہ دیتے ہوئے ابھیشک منو سنگھوی نے کہا کہ دستور نے ہر مذہب کے ماننے والے کو اپنے مذہب کے پرچار کے علاوہ مذہبی اداروں کے قیام اور انصرام کی اجازت دی ہے۔ گزشتہ 70 برسوں سے دستوری حقوق کو مرکزی حکومت نے متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ اور سنٹرل وقف کونسل میں غیر مسلم ارکان کی شمولیت سے متعلق ترمیم پر حکم التواء جاری کیا گیا ۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے وقف بائی یوزر کو ختم کرنے کی کوششوں پر بھی روک لگادی ہے۔ نئے قانون کے تحت وقف بورڈ میں ارکان کا الیکشن کے ذریعہ انتخاب ختم کرتے ہوئے حکومت نے صد فیصد نامزدگی کا فیصلہ کیا ہے ۔ وقف بورڈ کے 11 ارکان میں 7 ارکان کے غیر مسلم ہونے کی گنجائش فراہم کی گئی۔ تمام ارکان بھی صدرنشین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعہ برطرف نہیں کرپائیں گے اور حکومت نے کے اختیار اپنے پاس رکھا ہے ۔ سپریم کورٹ نے دیگر مذاہب کے اداروں میں مسلمانوں کی شمولیت سے متعلق سوال کیا اور اس ترمیم پر عبوری روک لگادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کونسل کے 22 ارکان نے 12 کے غیر مسلم ہونے کی گنجائش فراہم کی گئی جس کی سپریم کورٹ نے مخالفت کی۔ ابھیشک منو سنگھوی نے بتایا کہ سپریم کورٹ نے وقف ترمیمی قانون کی 3 ترمیمات پر عبوری حکم التواء جاری کردیا ہے ۔ آئندہ سماعت تک وقف بورڈ اور وقف کونسل میں کوئی تقررات نہیں کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وقف بائی یوزر کی برقراری کے ذریعہ سپریم کورٹ نے صدیوں سے چلی آرہی روایات کو برقرار رکھا ہے جس کے نتیجہ میں عبادت گاہوں کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں تفصیلی سماعت کے موقف پر وہ وقف ترمیمی قانون کے دیگر نکات کے خلاف دلائل پیش کریں گے۔1










