جموں و کشمیر میں 2005 کی التوا شدہ بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت برقرار
سرینگر/// یو این ایس سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے اس فیصلے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا، جس میں تقریباً دو دہائیوں سے التوا کا شکار جیل وارڈرز کی بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بینچ نے مرکزی حکام کی جانب سے دائر خصوصی اجازت کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ ‘‘’ بینچ نے کہاخصوصی اجازت کی عرضیوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔یہ ’ایس ایل پی‘جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے 21 دسمبر 2023 کے فیصلے سے جڑی تھی، جس میں سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹربیونل کے اس حکم کو برقرار رکھا گیا تھا جس میں 2005 میں جیل وارڈرز کے 73 عہدوں کی بھرتی منسوخی کو ختم کیا گیا تھا۔یو این ایس کے مطابق ہائی کورٹ نے اپنی تفصیلی ریمارکس میں حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ بھرتی کے عمل کے مکمل ہونے کے قریب ہونے کے باوجود اسے منسوخ کر دیا گیا اور سالوں تک خالی پوسٹس رہنے دی گئیں۔ بینچ نے واضح کیا کہ امیدواروں نے جسمانی اور آؤٹ ڈور ٹیسٹ، لٹریسی ٹیسٹ اور دستاویزی تصدیق میں کامیابی حاصل کی تھی، لیکن حتمی نتائج کبھی اعلان نہیں ہوئے۔ہائی کورٹ نے ہدایت دی کہ بھرتی کے عمل کو تین ماہ کے اندر مکمل کیا جائے اور امیدواروں کے حق میں ‘‘ہمدردانہ رویہ’’ اختیار کیا جائے، کیونکہ بیشتر امیدوار اب عمر کی حد سے تجاوز کر چکے ہیں اور انہیں دوبارہ یہ مواقع حاصل نہیں ہو سکتے۔سپریم کورٹ کی عدم مداخلت کے بعد، جموں و کشمیر و لداخ ہائی کورٹ کے ہدایات حتمی حیثیت اختیار کر چکی ہیں اور جیل وارڈرز کی طویل التوا بھرتی کے عمل کو مکمل کرنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔










