ایک امریکی عدالت نے میرین کور(یو ایس ایم سی) کو حکم دیا ہے کہ وہ بھرتی ہونے والے سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کو داڑھی رکھنے اور پگڑیاں پہننے کی اجازت دیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدالت نے جمعے کو امریکی بحریہ کی ایلیٹ یونٹ کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہ مذہبی استثنیٰ کی اجازت دینے سے ہم آہنگی کم ہو گی، یہ حکم جاری کیا۔واضح رہے کہ امریکی فوج، بحریہ، فضائیہ اور کوسٹ گارڈز اور کئی غیرملکی افواج میں پہلے ہی سکھ مت کے مذہبی تقاضوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔سکھ مت کا عقیدہ پانچ صدیاں قبل جنوبی ایشیا میں ظہور پذیر ہوا تھا جو مردوں کو بال کاٹنے یا داڑھی تراشنے سے منع کرتا ہے اور اس میں مردوں کے لیے پگڑی پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔لیکن امریکی میرین کور نے گزشتہ برس بھرتی ہونے کے لیے ٹیسٹ دینے والے تین سکھوں کو 13 ہفتوں کی بنیادی تربیت اور ممکنہ جنگی حالات کے دوران داڑھی بڑھانے سے متعلق ضوابط میں میں چھوٹ دینے سے انکار کر دیا تھا۔میرین کور کی جانب سے کہا گیا تھا کہ یہ تینوں افراد اپنی داڑھی اور پگڑیاں ٹریننگ کے سوا برقرار رکھ سکتے تھے۔اس حوالے سے میرین کور کی قیادت کی دلیل یہ تھی کہ سپاہیوں میں مشترکہ قربانی کا جذبہ بیدار کرنے کی جانب ’نفسیاتی تبدیلی‘ کے لیے بھرتی ہونے والوں سے ’ان کی انفرادیت الگ کرنے‘ کی ضرورت ہے۔واشنگٹن میں امریکی کورٹ آف اپیلز کے تین ججوں کے بنچ نے اس میرین کور کی اس دلیل سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ میرینز نے کوئی دلیل پیش نہیں کی کہ آیا داڑھی اور پگڑیاں حفاظتی لوازمات یا جسمانی تربیت میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔عدالت نے کہا کہ میرینز نے بعض حالات میں مردوں کو داڑھی مونڈنے سے مستثنیٰ قرار دیا ہے اور خواتین کو اپنے بالوں کے انداز کو برقرار رکھنے اور بڑے پیمانے پر ٹیٹو(’جو کہ انفرادی شناخت کا عمدہ اظہار ہے‘) بنانے کی اجازت دی ہوئی ہے۔جج پیڑیسیا ملیٹ اپنے فیصلے میں لکھا ’تربیت کے دوران مختلف پس منظر کے افراد میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت کے باوجود بھی انفرادیت کی کچھ بیرونی علامات کا لحاظ کیا جا سکتا ہے۔‘عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ نشاندہی بھی کی کہ داڑھی کے ضوابط 1976 سے ہیں۔ بالوں والے میرینز سے ریوولوشنری وار کے زمانے سے لے کر جدید دور تک کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں وکشمیر کلچر فیسٹول کا اِفتتاح کیا
چیف سیکرٹری نے آر ایم پی سکیم کے تحت ایم ایس ایم ای ہیلتھ کلینک کے اثرات کا جائزہ لیا
جموںوکشمیر قانون ساز اسمبلی میں ارکان نے ’وقفہ صفر‘ کے دوران اہم عوامی مسائل اُٹھائے
پی ایم سوریہ گھر یوجنا کے تحت 4,288 مستفید ین کو 3.80 کروڑ روپے یوٹی سبسڈی جاری کی گئی ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ
وزیر ٹرانسپورٹ نے ایوان میں آر ٹی سی کے سالانہ اکائونٹس رِپورٹیں پیش کیں
جموں اور سری نگر شہروں کیلئے میٹرو لائٹ /لائٹ میٹرو پروجیکٹس کی تجاویزمرکزی حکومت کے زیر غور ۔ سکینہ ایتو
سری نگر ضلع میں 1,190 آنگن واڑی مراکز فعال ہیں ، سینٹرل شالہ ٹینگ حلقہ میں 152 ۔ سکینہ اِیتو
حکومت سرکاری محکموں میں خالی اَسامیوں کو پُر کرنے کیلئے بھرتیوں کو ترجیح دے گی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ
ایم ایل ایز سی ڈِی ایف سے آفت زدگان
18,382 کروڑ روپے کی واجبات اَدا










