سوڈان کا امارات پر دارفور میں نسل کشی کروانے کا الزام

سوڈان کا امارات پر دارفور میں نسل کشی کروانے کا الزام

خرطوم : خرطوم حکومت نے عالمی عدالت انصاف میں دائر مقدمہ میں متحدہ عرب امارات پر ہزاروں افراد کے قتل عام میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ یو اے ای نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے سوڈان کے مقدمے کو ایک ’’سیاسی تھیٹر‘‘ قرار دیا۔ سوڈان نے آج دس اپریل بروز جمعرات بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) کو آگاہ کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سوڈانی فوج سے لڑنے والے باغیوں کی مبینہ حمایت کے ذریعہ دار فور میں مقامی رہائشیوں کی نسل کشی کے پس پردہ ایک متحرک قوت ہے۔ خرطوم نے آئی سی جے کے سامنے اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے یو اے ای پر الزام لگایا ہے کہ وہ 2023ء سے سوڈانی فوج سے لڑنے والے نیم فوجی دستوں پر مشتمل ملیشیا ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کی پشت پناہی کے ذریعہ مقامی مسالیت کمیونٹی کے خلاف نسل کشی میں ملوث ہے۔ متحدہ عرب امارات تاہم باغیوں کی حمایت سے انکار کرتے ہوئے سوڈان کے مقدمہ کو ایک سیاسی تھیٹر کے طور پر مسترد کر دیا ہے، جس کا مقصد یو اے ای کے بقول اس جنگ کے خاتمہ کی کوششوں سے توجہ ہٹانا ہے، جس میں دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سوڈان کے قائم مقام وزیر انصاف معاویہ عثمان نے عدالت کو بتایا، سوڈان میں جاری نسل کشی متحدہ عرب امارات کی شراکت کے بغیر ممکن نہیں ہوگی، جس میں آر ایس ایف کو ہتھیاروں کی ترسیل بھی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا، متحدہ عرب امارات آر ایس ایف کو براہ راست لاجسٹک اور دیگر مدد فراہم کر رہی ہے، وہ قتل، عصمت دری، جبری نقل مکانی اور لوٹ مار سمیت اب ہونے والی نسل کشی کے پیچھے بنیادی محرک ہے اور اسے جاری رکھے ہوئے ہے۔ سوڈان چاہتا ہے کہ آئی سی جے کے جج متحدہ عرب امارات کو مجبور کریں کہ وہ آر ایس ایف کی مبینہ حمایت کو روکے اور جنگ کے متاثرین کو مکمل معاوضہ ادا کرے۔