سوپور میں تصادم، لشکر طیبہ کے 2 جنگجو ہلاک

سری نگر//شمالی ضلع بارہمولہ کے وارپورہ سوپور میں ایک شبانہ مسلح تصادم کے دوران لشکر طیبہ کے دو جنگجو مارے گئے ہیں۔ایک پولیس ترجمان نے اس تصادم کے بارے میں اپنے ایک بیان میں تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ جنگجوؤں کے چھپنے کی مصدقہ اطلاع موصول ہونے پر فوج کی 22 آر آر، سی آر پی ایف اور سوپور پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے وارپورہ سوپور علاقے کو جمعرات کی شام قریب پونے پانچ بجے محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کر دیا۔انہوں نے بیان میں کہا کہ جوں ہی تلاشی آپریشن کی ایک ٹیم ایک مشکوک مکان کے نزدیک پہنچی تو وہاں چھپے جنگجوؤں نے اس پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔بیان میں کہا گیا کہ سیکورٹی فورسز اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں طرفین کے درمیان تصادم چھڑ گیا۔موصوف ترجمان نے بیان میں کہا کہ اس شبانہ تصادم آرائی کے دوران لشکر طیبہ نامی جنگجو تنظیم سے وابستہ دو جنگجو مارے گئے۔مہلوکین کی شناخت فیاض احمد وار عرف عمر ولد غلام محی الدین وار ساکن وارپورہ سوپور اور شاہین احمد میر عرف شاہین مولوی ولد محمد کمال میر ساکن چھرپورہ بڈگام کے بطور ہوئی ہے۔انہوں نے بیان میں کہا کہ جائے تصادم آرائی سے کچھ اسلحہ و گولہ بارود اور کچھ قابل اعتراض مواد بھی برآمد ہوا ہے۔بیان کے مطابق فیاض احمد وار لشکر طیبہ کا ایک اعلیٰ کمانڈر تھا جس کی ہلاکت سیکورٹی فورسز کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔اس دوران کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے اس مسلح تصادم کے بارے میں نامہ نگاروں کو بتایا: ‘جمعرات کو سہ پہر کے وقت پولیس کو اطلاع ملی کہ سوپور میں لشکر طیبہ کے دو جنگجو چھپے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘پولیس، فوج اور سی آر پی ایف نے علاقے کو محاصرے میں لیا۔ علاقے کو محاصرے میں لینے کے دوران ہی فائرنگ شروع ہوئی۔ عام شہریوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی خاطر آپریشن کو کچھ گھنٹوں کے لئے روک دیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا: ‘رات کے دو بجے جنگجوئوں کے خلاف کارروائی بحال کی گئی۔ آپریشن میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو مقامی جنگجو مارے گئے۔ مہلوک جنگجوئوں میں سے فیاض وار عرف عمر بھی ہے۔ یہ کئی ہلاکتوں میں ملوث تھا۔ اس کا مرنا سکیورٹی فورسز اور عوام کے لئے بہت اچھی بات ہے۔آئی جی پی نے کہا کہ وادی کشمیر میں اس سال اب تک 82 جنگجو مارے گئے ہیں جس میں سب سے زیادہ لشکر طیبہ کے تھے۔قبل ازیں وجے کمار نے ٹویٹر پر کہا کہ سوپور میں فیاض وار اور اس کے ساتھی کی ہلاکت سکیورٹی فورسز کے لئے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا: ‘فیاض وار کئی حملوں اور شہری ہلاکتوں میں ملوث تھا۔ وہ شمالی کشمیر میں تشدد کی کارروائیاں انجام دینے والا آخری مجرم تھا۔انہوں نے کہا: ‘تصادم کے دوران سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے جس کے لئے اولالذکر مبارکبادی کے مستحق ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔