سوپور//عوامی نقل وحمل اورکاروباری وتجارتی سرگرمیوں کی بناء پرچھوٹا لندن کہلانے والے سوپورقصبے میں چہارسوگندگی اورغلاظت کے انبارنظر آتے ہیں ،جہاں آوارہ کتوں کے جھنڈ بھی ہمہ وقت موجودرہتے ہیں ۔کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے اُٹھنے والی بدبو اورعفونیت کے ساتھ ساتھ کتوںکی ہڑبونگ اور گراہٹ نے لوگوں کاچلنا پھرنا مشکل بناکررکھ دیاہے ۔ جے کے این ایس کے مطابقشمالی کشمیر کے سوپور قصبے میں ٹھوس کچرے(کوڑے کرکٹ)کوٹھکانے لگانے کے انتظام کیلئے موثر اقدامات کرنے میں حکام کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے، کیونکہ یہاں کوڑا کرکٹ پھینکنے کی سہولت کا انتظام کرنے میں ان کی ناکامی نے مقامی لوگوں میں بڑے پیمانے پر ناراضگی کو جنم دیا ہے ۔سوپورکے عام لوگ اورتاجر کہتے ہیں کہ گھریلو اور بازار کے کچرے کے ڈھیرتاریخی قصبے میں جگہ جگہ سڑک کناروں پر اوریہاں تک کی گنجان آبادی والی بستوں کی گلیوں اورنکڑوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ سوپور قصبہ پچھلے کئی سالوں نہیں بلکہ دہائیوںسے ایک مناسب ڈمپنگ سائٹ کے لئے ترس رہا ہے اور جس پر آج ت ک کسی حکومت نے غور نہیں کیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ سوپور قصبہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس میں مین بازار سمیت کئی علاقوں میں سڑک کے کنارے کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس کی بنیادی وجہ علاقے میں کچرا ڈالنے کی کوئی مناسب جگہ مقرر یا موجود نہیں ہے۔ لوگوں کے مطابق میونسپل کونسل سوپورکے صفائی کرمچاریوںکی جانب سے مختلف علاقوں سے اکٹھا کیا جانے والا کچرا یہاں سڑک کے کنارے پھینکا جا رہا ہے جس سے بدبو آتی ہے جس کے نتیجے میں رہگیروں یعنی پیدل چلنے والوں کی آمدورفت مشکل ہو جاتی ہے۔لوگوں نے کہا کہ مین بازارسوپور میں مین روڈ کے سامنے کوڑا کرکٹ کا ڈھیر مکینوں کیلئے پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کچرے سے اٹھنے والی بدبو سے ان کے لئے سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے جب کہ بارش کے دوران صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے۔ لوگوں کا مزید کہنا تھا کہ سڑکوں پر پڑنے والے ٹھوس کچرے(کوڑے کرکٹ)نے بھی قصبے میں کاروبار کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔اسکول ،کالج یاٹیوشن سینٹر جانے والے طلباء وطالبات کوبھی آتے جاتے وقت کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں سے اُٹھنے والی بدبو وعفونیت اوریہاں جمع رہنے والے کتوںکی ہڑبونگ کافی پر یشان کرتی ہے ۔ایک مقامی طالبہ نے کہاکہ کتے ہمیشہ بہت سے علاقوں میں نظر آتے ہیں کیونکہ وہ کوڑے کرکٹ کے ڈھیروںپر کھانا تلاش کرتے رہتے ہیں، جو مقامی لوگوں خاص طور پر طالب علموں کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔مقامی طالبہ نے کہا کہ حکام کو جلد از جلد اس بارے میں سوچنا چاہیے۔ایک اور مقامی طالب علم نے کہا کہ حکام نے اس معاملے پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اکثر اوقات صبح یا شام کے وقت بھی اس جگہ سے کچرا نہیں اٹھایاجاتاہے ،جس وجہ سے کتوںکے جھنڈ ایسی جگہوںکواپنا مسکن بنادیتے ہیں ۔مقامی دکانداروںنے کہاکہ کچرے سے بدبو آتی ہے اور یہ لوگوں کی صحت کیلئے خطرہ بن گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ کوڑے کرکٹ اورگندگی وغلاظت کے انبار کتوں، مویشیوں اور کیڑے مکوڑوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔










