سماج کوتباہ کرنے والے منشیات فروشوں کاشکنجہ کسنے کی پولیس کی جاری مہم

سوپور اور کولگام میں 05 منشیات فروش گرفتار، ممنوعہ نشیلی اشاعہ برآمد

سرینگر// منشیات فروشوں کے خلاف اپنی کاروائی جاری و ساری رکھتے ہوئے سوپور اور کولگام پولیس نے مختلف کاروائیوں کے دوران پانچ منشیات فروشوں کو گرفتاررکرکے ان کے قبضے سے ممنوعہ نشیلی اشاعہ برآمد کرکے ضبط کی ۔سی این آئی کے مطابق تھانہ بومئی کی پولیس پارٹی نے ایس ایچ او اکی قیادت اورڈی وائی ایس پی ہیڈ کوارٹر سوپور کی نگرانی میں زندی کراسنگ پر ناکہ لگایا۔ دوران چیکنگ پولیس پارٹی نے ایک گاڑی زیر رجسٹریشن نمبر JK04D 7480 جس میں دو افراد سوار تھے۔جن کی شناخت باسط احمد لون اور 2مدثر احمد گنائی ساکناں تجر سوپور کے بطور ہوئی ہے۔ تلاشی کے دوران ان کے قبضے سے نشیلی ادویات برآمد ہوئیں۔ دونوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا اور سائیکو ٹراپک مادہ بھی موقع پر قبضے میں لے لیا گیا۔تھانہ پولیس بومی سوپورہ نے اس سلسلے میں کیس ایف آئی آرمتعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرکے مزید تفتیش شروع کی گئی۔اسی دوران منشیات فروشوں کے خلاف اپنی کاروائی جاری رکھتے ہوئے کولگام پولیس نے پولیس اسٹیشن قاضی گنڈ کے دائرہ اختیار میں منشیات کی اسمگلنگ کے حوالے سے ایک قابل اعتماد اطلاع پر پولیس چوکی میربازار کی پولیس پارٹی نے نیپورہ میں ایک ناکہ قائم کیا اور چیکنگ کے دوران دو افراد بشمول ایک خاتون ساکن چیک بدوانی قاضی گنڈ اور بشیر احمد کو حراست میں لے لیا۔کنہ سدورہ قاضی گنڈ عمر تقریباً 49 سال کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے 05 کلو پوست کا بھوسا اور 04 گرام براؤن شوگر برآمد کر لی گئی۔ انہیں گرفتار کیا گیا اور تھانہ پولیس قاضی گنڈ نے اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 32/2022ایکٹ کے ساتھ درج کرکے اس سلسلے میں مذید تحققیات شروع کردی ۔ اسی دوران کولگام پولیس نے ایک اور کاروائی کرتے ہوئے دلواچ، قاضی گنڈ کے مقام پر ناکہ چیکنگ کے دوران ایک بدنام زمانہ منشیات فروش جاوید احمد ڈار عرف جانی ولد محمد شعبان ڈارساکن بیرگام کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے 4 کلو گرام پوست کا بھوسا برآمد کر لیا گیا۔مذکورہ منشیات فروش ایک بدنام زمانہ ہے اور اس کے خلاف پہلے بھی این ڈی پی ایس کے متعدد مقدمات درج کیے گئے ہیں اور خاص طور پر قاضی گنڈ میں نوجوانوں میں منشیات فروخت کرتا ہے ۔ قاضی گنڈ کے لوگوں نے پولیس کی کارروائی کی ستائش کی ہے اور اس بدنام زمانہ منشیات فروش کی گرفتاری پر راحت کی سانس لی ہے۔