صارفین قیمتوں میں کمی کی توقع کر رہے ہیں، لیکن کوئی یقین نہیں ہے کہ یہ کب ہو سکتا ہے/ جیولرس ایسوسی ایشن
سرینگر // سونے کی قیمتیں آسمان چھو جانے کے ساتھ ہی مانگ میں کمی ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں اس صنعت سے وابستہ افراد بھی پریشان حال ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سونے کی قیمتیںآسمان چھو جانے کے بعد کشمیر میں اس صنعت سے وابستہ افراد کافی پریشان حال ہے اور انہوں نے الزام عائد کیا کہ 90فیصدی سونے کی فروخت میں کمی آ چکی ہے جس کے باعث سونا بیچنے والے افراد بھی کافی پریشان ہے اور ان کی روزی روٹی متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہو گیا ہے ۔ آل کشمیر گولڈ ڈیلرس اینڈ ورکرز ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد نے کہا کہ مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے کے دوران کاروبار میں 90 فیصد کی زبردست کمی دیکھی گئی۔موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا ’’مارکیٹ نیچے ہے۔ کام کا کہیں نام و نشان نہیں ہے۔ پچھلے ہفتے سے، فروخت میں کمی آئی ہے اور تاجر قیمتوں کے مستحکم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ صارفین قیمتوں میں کمی کی توقع کر رہے ہیں، لیکن اس کے بارے میں کوئی یقین نہیں ہے کہ یہ کب ہو سکتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس وقت 24 قیراط سونے کی قیمت 86,000 روپے فی 10 گرام ہے، یہ تیزی سے اضافہ ہے جس نے خریداروں کی مزید حوصلہ شکنی کی ہے۔ 22قیراط اور 18قیراط سونا جیسے دیگر اقسام کی قیمتوں میں بھی زبردست اضافہ دیکھا جا رہا انہوں نے خطے میں صرافہ مارکیٹ پر شدید اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری سرگرمیاں معمول کے حجم کے 10 فیصد سے بھی کم رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا ’’جن دکانوں میں کبھی گاہکوں کا ایک مستقل بہاؤ تھا اب وہ صرف مٹھی بھر نظر آتی ہیں۔ سکے کی قیمتوں میں بھی کوئی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہے، جیسے جیسے سونے کی قیمتیں بڑھتی ہیں، اسی طرح سکے کی قیمتیں بھی بڑھ جاتی ہیں‘‘۔مستقبل کے رجحانات کے بارے میں پوچھے جانے پر، احمد نے پیش گوئی کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ نے کسی تبدیلی کا اندازہ لگانا مشکل بنا دیا۔ انہوں نے کہا ’’ میں اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ صورتحال غیر یقینی ہے‘‘۔ سونے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے تاجروں اور صارفین میں یکساں طور پر تشویش پیدا کر دی ہے، بہت سے لوگ کوئی بھی خریداری کرنے سے پہلے اصلاح کا انتظار کر رہے ہیں۔ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے خطے میں سونے کی تجارت پر انحصار کرنے والوں کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے۔










