موسمِ بہار اور گرما میں زیادہ رش، سردیوں میں بھی سیاحتی سرگرمیاں بڑھیں
سرینگر/ یو این ایس / کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام سونہ مرگ نے جنوری تا نومبر 2025 کے دوران کل 417,091 سیاحوں کی میزبانی کی، جو مختلف موسموں میں سیاحوں کی مسلسل دلچسپی اور آمد کا مظہر ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملکی، غیر ملکی اور مقامی سیاحوں نے سونمرگ کا رخ مسلسل کیا۔ٹورسٹ پولیس پوسٹ سونہ مرگ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں تقریباً 55,934 سیاح آئے، جن میں 53,676 ملکی، 1,114 غیر ملکی اور 1,144 مقامی سیاح شامل تھے۔ فروری میں یہ تعداد بڑھ کر 57,186 ہو گئی، جبکہ مارچ میں قریب 63,000 سیاح ریکارڈ کیے گئے۔ اپریل میں سب سے زیادہ رش دیکھا گیا، جب 72,722 سیاحوں نے سونمرگ کا رخ کیا، جن میں 67,229 ملکی، 1,434 غیر ملکی اور 4,059 مقامی سیاح شامل تھے۔مئی میں سیاحوں کی تعداد کم ہو کر 21,573 رہی، لیکن جون میں پھر اضافہ ہوا اور تقریباً 48,139 سیاحوں نے یہاں قیام کیا۔ جولائی اور اگست میں بھی سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ موسم خزاں میں ستمبر تا نومبر کے دوران آمد میں کمی آئی لیکن سیاحتی سرگرمیاں مستحکم رہیں۔ نومبر میں تقریباً 18,070 سیاحوں نے سونمرگ کا رخ کیا۔بیوپار منڈل ایسوسی ایشن سونہ مرگ کے صدر فْرقان احمد نے کہا،’’سیاحت سونمرگ کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بڑھتی ہوئی سیاحوں کی تعداد نے ہوٹلز، ٹرانسپورٹرز اور مقامی تاجروں پر مثبت اثر ڈالا اور مجموعی مارکیٹ کو مستحکم کیا ہے۔‘‘محکمہ سیاحت نے کہا کہ حالیہ برف باری کے بعد سیاحتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سردیوں میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے محکمہ نیایڈونچر سرگرمیوں جیسے اسکینگ اور آئس سکیٹنگ کے ساتھ خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ سیاحتی افسربشارت حسین نے بتایا’’31 دسمبر کو خصوصی پروگرام اور سردیوں کے کھیلوں کے ایونٹس منعقد کیے جائیں گے تاکہ سیاحوں کو یادگار تجربہ فراہم کیا جا سکے۔‘‘تجزیہ کاروں کے مطابق، سونہ مرگ کی سیاحت سال بھر مستحکم رہی ہے، اور اس نے مقامی معیشت، روزگار اور مارکیٹ کی سرگرمیوں پر مثبت اثر ڈالا ہے۔ یہ اعداد و شمار سونہ مرگ کشمیری سیاحت کا اہم مرکز بناتے ہیں، جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے ہر موسم میں دلچسپی کا باعث ہے۔










