Social Media

سوشل میڈیا کے استعمال سے سماجی برائیاں اورمن گھڑت خبروں کی ترسیل

معاشرتی تباہی کا باعث،طلاق کی شرح میں بھی اضافہ ،سرکاری اور سماجی سطح پر توجہ دینا لازمی

سرینگر / /انٹرنیٹ نے عالم انسانیت کو بہت قریب لایا اور انسان کے آپسی رابطے مستحکم ہوئے ۔انٹرنیٹ کے ذریعے مختلف سماجی ویب سائٹ سے رابطے آسان ہوئے اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ دوستی قائم ہوتی رہتی ہے گویا انجان اور اجنبی بھی اپنے ہونے لگے ۔یہ اس سہولیت کا ایک پہلو ہے لیکن جب اس کا دوسرا رُخ دیکھا جاتا ہے تو وہ کافی دلچسپ بھی اور بھیانک بھی ہے ۔سوشل میڈیا کی مختلف ویب سائٹس بشمول فیس بُک ،انسٹی گرام ،وٹس ایپ ،آئی ایم او ،زوم ایپ ،گوگل ایپ ،یو ٹیوب ،ٹیویٹر،میسنجراور ٹیلی گرام پر جہاں مختلف نوعیت کے پروگرام اور رابطے کئے جاتے ہیں وہیں ان ویب سائٹس کے ذریعہ فحاشی اور سماجی برائیاں بڑی تیزی سے پنپ رہی ہیں ۔اس سلسلے میں سماج کے حساس اور ذی حس افراد نے بتایا کہ ان سماجی ویب سائٹس کے فائدے کم اور نقصانات بہت زیادہ ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان سماجی ویب سائٹس پر فحش ویڈیوز اور آڈیوز اپ لوڈ کئے جارہے اور ان کی وجہ سے ازدواجی رشتے خراب ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عدالت اعظمیٰ شرعی اسلامیہ ،ذیلی عدالتوں اور عدالت عالیہ کے علاوہ اوقاف اسلامیہ اور سیول سوسائٹیز کے پاس آئے روز میاں بیوی کے معاملات و مسائل دیکھنے کو ملتے رہتے ہیںاور ان مسائل کے بنیادی محرکات فون یا ان سماجی ویب سائٹس پر میاں کی کسی غیر لڑکی کے ساتھ یا بیوی کی کسی غیر لڑکے کے ساتھ رابطے ہوتے ہیںجس سے دونوں کے رشتے خراب ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ طلاق کی شرح میں آئے روز اضافہ ہورہا ہے۔ جو معاشرتی تباہی کا ایک وجہ بن سکتاہے ۔بہتر ازدواجی زندگی سے سماج کی بہتر تعمیر ممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ حصول تعلیم کیلئے ان ویب سائٹس کو لازم ملزوم بنادیا ۔لیکن اس سے تعلیم متاثر ہونے کے ہی خدشات اور تحفظات ہیں ۔کیونکہ جن بچوں کو فون تعلیم حاصل کرنے کیلئے میسر رکھے گئے وہ ان سماجی ویب سائٹس کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ فروعی ویڈیوز اور آڈیوز کی جانب گامزن ہورہے ہیں جس سے وہ ذہنی انتشار کے شکار ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ذرایع ابلاغ کے ذریعہ یہاں خبریں ترسیل ہوتی رہتی تھیںاور ان خبروں کی تصدیق کے بعد ہی ترسیل کیا جاتا تھا لیکن اب سوشل میڈیا پر ایسی خبریں وائرل ہوجاتی ہیں جن میں بیشتر بنا تصدیق کے ہوتی ہیں اور ان خبروں میں عزت دارشخصیات کی عزت ریزی کا عنصر بھی پایا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسا مسئلہ بن گیا جس سے ایساسیلاب امڈ آنے کا اندیشہ ہے جس سے کسی کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہاس صورتحال کو بھانپتے ہوئے سماج کے ہر ایک شخص پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انفرادی اور اجتماعی حیثیت اپنا کردار ادا کریں تاکہ ہمارا سماج تباہ ہونے بچ جائیں ۔انہوں نے سرکار سے بھی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سماجی ویب سائٹس کے استعمال کیلئے مجموعی طور ایک لائحہ عمل ترتیب دیا جائے تاکہ ان کے غلط استعمال پر روک لگ جائے گی ۔