سوزنی:ایک درخشاں فن جو تاریخ، ثقافت اور شناخت کو جوڑتا ہے

سوزنی:ایک درخشاں فن جو تاریخ، ثقافت اور شناخت کو جوڑتا ہے

صدیوں پر محیط تاریخی روایت جو آج بھی زندہ ہے،ایک تہذیبی ورثہ جو وقت کے ساتھ مزید نکھر گیا

سرینگر/یواین ایس// جموں و کشمیر کی سرسبز و شاداب وادی جہاں قدرتی حسن اور انسانی مہارت ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں، وہاں کا روایتی فن ’’سوزنی کشیدہ کاری‘‘ صدیوں پر محیط تہذیبی ورثے کی زندہ مثال ہے۔ یہ نفیس فن جسے مقامی طور پر شال بافی بھی کہا جاتا ہے، کشمیری معاشرے کی شناخت، ذوقِ جمال اور فطرت سے گہرے تعلق کا آئینہ دار ہے۔ ماہرین کے مطابق کشمیری کاریگر گزشتہ پانچ سو برس سے زائد عرصے سے اس فن کو نسل در نسل زندہ رکھے ہوئے ہیں، جو بذاتِ خود ایک تاریخی تسلسل کی علامت ہے۔یو این ایس کے مطابق سوزنی کشیدہ کاری کی تاریخ کشمیر کے تجارتی، ثقافتی اور تہذیبی روابط سے جڑی ہوئی ہے۔ کشمیر صدیوں تک وسط ایشیا اور دیگر خطوں کے تجارتی راستوں کا اہم مرکز رہا ہے، جس کے باعث یہاں کے کاریگروں نے مختلف بیرونی اثرات کو جذب کیا اور انہیں اپنے منفرد انداز میں ڈھالا۔ مغل دورِ حکومت میں کشمیری شالوں اور کشیدہ کاری کو غیر معمولی عروج حاصل ہوا، خصوصاً مغل بادشاہ اکبر کو کشمیری شالوں سے خاص دلچسپی تھی۔ بعد ازاں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں کشمیری شالیں یورپ تک برآمد ہونے لگیں اور عالمی منڈی میں ان کی بے پناہ مانگ نے کشمیر کی معیشت کو تقویت بخشی۔سوزنی فن کی سب سے نمایاں خصوصیت’ دو رخہ‘ تکنیک ہے، جس میں کپڑے کے دونوں طرف ایک جیسا نقش ابھرتا ہے۔ یعنی شال یا کپڑے کا اگلا اور پچھلا رخ یکساں خوبصورت نظر آتا ہے، جو انتہائی مہارت، صبر اور باریک بینی کا تقاضا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوزنی کو دنیا کی نازک ترین اور مشکل ترین کشیدہ کاریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پشمینہ شالیں اس فن کا سب سے اعلیٰ نمونہ سمجھی جاتی ہیں، جہاں مہینوں کی محنت، باریک سوئی اور نفیس دھاگہ مل کر ایک شاہکار تخلیق کرتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق روایتی طور پر سوزنی کے زیادہ تر کاریگر کشمیر کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ماضی میں ان میں سے بڑی تعداد کسانوں پر مشتمل تھی، جو سردیوں کے موسم میں جب کھیت برف سے ڈھک جاتے تو گھروں میں بیٹھ کر شالوں پر کشیدہ کاری کرتے تھے۔ یوں یہ فن نہ صرف ثقافتی شناخت بنا بلکہ ہزاروں خاندانوں کیلئے ذریعہ معاش بھی ثابت ہوا۔ اگرچہ یہ فن طویل عرصے تک مردوں تک محدود رہا، تاہم موجودہ دور میں خواتین کی شمولیت بھی بڑھ رہی ہے، جو اس روایت کے تسلسل کے لیے خوش آئند ہے۔سوزنی شال کی تیاری ایک طویل اور محنت طلب عمل ہے۔ سب سے پہلے ماہر نقشہ ساز (نقش) گراف پیپر پر ڈیزائن تیار کرتا ہے۔ اس کے بعد لکڑی کے بلاک کے ذریعے یہ نقش کپڑے پر منتقل کیا جاتا ہے، جس کے لیے کوئلہ اور چاک کے آمیزے کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ نشان واضح رہے۔ پھر کاریگر باریک سوئی اور اعلیٰ معیار کے ریشمی یا سوتی دھاگے سے انتہائی انہماک کے ساتھ کشیدہ کاری کرتا ہے۔ اکثر ایک ہی کاریگر شال کا کام شروع کر کے مکمل کرتا ہے، کیونکہ ہر کاریگر کے ہاتھ کا انداز اور نفاست مختلف ہوتی ہے۔ آخر میں شال کو دھو کر صاف کیا جاتا ہے تاکہ اس کی خوبصورتی مزید نکھر کر سامنے آئے۔سوزنی کشیدہ کاری میں استعمال ہونے والے نقش و نگار بھی کشمیری تہذیب اور فطرت کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ بوٹا (پیسلی) ڈیزائن، جیومیٹریائی اشکال، چنار کے پتے، مختلف پھول، بیل بوٹے اور قدرتی مناظر اس فن کا لازمی حصہ ہیں۔ یہی نقشے سوزنی کو دیگر کشیدہ کاریوں سے ممتاز بناتے ہیں اور اسے ایک جمالیاتی شان عطا کرتے ہیں۔تاہم یہ عظیم فن آج مختلف چیلنجز سے دوچار ہے۔ مشینی مصنوعات اور سستی نقل نے روایتی دستکاری کی منڈی کو متاثر کیا ہے۔یو این ایس کے مطابق کاریگروں کو مناسب معاوضہ نہ ملنا، خام مال کی کمی، بہتر ورک اسپیس کا فقدان اور جدید مارکیٹ تک رسائی نہ ہونا جیسے مسائل بھی اس فن کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ 2022 میں محکمہ ہینڈی کرافٹس جموں و کشمیر نے ’’کرافٹ سفاری‘‘ کا آغاز کیا، جس کا مقصد سیاحوں، طلبہ، محققین اور صحافیوں کو کاریگروں کے قریب لانا اور انہیں اس فن سے روشناس کرانا ہے۔ اس کے علاوہ کئی کشمیری دستکاریوں کو جیوگرافیکل انڈیکیشن ٹیگ(جی آئی) بھی دیا گیا ہے، جس سے اصلی دستکاری کو قانونی تحفظ حاصل ہوا ہے اور نقلی مصنوعات کی حوصلہ شکنی میں مدد ملی ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سوزنی جیسے فن کو مؤثر حکومتی سرپرستی، جدید مارکیٹنگ، اور کاریگروں کی معاشی بہتری کے لیے ٹھوس اقدامات نہ ملے تو یہ قیمتی تہذیبی ورثہ بتدریج کمزور پڑ سکتا ہے۔ سوزنی صرف ایک فن نہیں بلکہ کشمیر کی روح، تاریخ، شناخت اور تہذیبی عظمت کی علامت ہے، جس کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔