سنجیو ورما نے ہوکر سر ، نارکارا ویٹ لینڈز کا دورہ کیا

سنجیو ورما نے ہوکر سر ، نارکارا ویٹ لینڈز کا دورہ کیا

سرینگر//کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات سنجیو ورما نے آج ہوکر سر اور نار کارا ویٹ لینڈز کا دورہ کیا ۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر بڈگام ، جوائینٹ کمشنر سرینگر میونسپل کارپوریشن ، سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ، ریجنل وائیلڈ لائف وارڈن کشمیر اور دیگر سینئر افسران کے علاوہ سول سوسائٹی گروپ زین کوٹ گاؤں کے اراکین بھی تھے ۔ کمشنر سیکرٹری نے ہوکر سر اور دیگر آبی وسائل کے پائیدار فوائد حاصل کرنے کیلئے دانشمندانہ استعمال کی پالیسی کو اپناتے ہوئے محفوظ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔سپرنٹنڈنگ انجینئر آبپاشی اور فلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے کمشنر سیکرٹری کو پی ایم ڈی کے تحت ہوکر سر ویٹ لینڈ کیلئے بحالی کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کو نافذ کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں مطلع کیا ۔ کمشنر سیکرٹری نے سپرنٹنڈنگ انجینئر آبپاشی و فلڈ کنٹرول کو ہدایت دی کہ وہ نشاندہی شدہ پوائینٹس پر ریگو لیٹری گیٹس ، ان لیٹ پر سلٹ ڈیٹینشن ٹینک ، کوڑے دان وغیرہ جیسے اقدامات پر عمل درآمد کو تیز کریں ۔ ایگزیکٹو انجینئر آبپاشی و فلڈ کنٹرول میکنیکل ڈویژن بارہمولہ کو سلیکٹو بنیادوں پر ویٹ لینڈ میں سلیٹڈ پیچ کی صفائی کیلئے واٹر ماسٹر کو تعینات کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ کمشنر سیکرٹری نے سول سوسائٹی گروپ زینہ کوٹ کے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کیلئے دانشمندانہ استعمال کی پالیسی اپنانے کیلئے پرعزم ہے کہ ویٹ لینڈ کے اندر کمیونٹی کے تسلیم شدہ حقوق کو زمین کے استعمال یا گیلی زمین کی خصوصیات میں کسی تبدیلی کی اجازت دئیے بغیر محفوظ رکھا جائے ۔ جوائینٹ کمشنر سرینگر میونسپل کارپوریشن سے کہا گیا کہ وہ اپنی حدود میں آنے والے ویٹ لینڈ علاقوں میں اور اس کے آس پاس ٹھوس فضلہ کو جمع کرنے /ٹھکانے لگانے کو یقینی بنائیں اس کے علاوہ مناسب تعداد میں ڈسٹ بن بھی نصب کریں ۔ بعد ازاں کمشنر سیکرٹری نے اسسٹنٹ کمشنر ریونیو بڈگام ، ریجنل وائلڈ لائف وارڈن کشمیر اور علاقائی ڈائریکٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ کے ہمراہ نار کارا ویٹ لینڈ کا بھی دورہ کیا اور ویٹ لینڈ کی صورتحال کا جائیزہ لیا ۔ کمشنر سیکرٹری نے اسسٹنٹ کمشنر ریونیو بڈگام کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ پانی کے تالابوں کی تشکیل ، ڈیویڈنگ ، باؤنڈری ڈیمارکیشن ، صفائی ستھرائی اور فیڈر چینلز کی بحالی کے ذریعہ ویٹ لینڈ کی حفاظت کی جائے ۔