Social unrest and the current situation are the cause of the growing trend of suicide

سماجی انتشار او رموجودہ صورتحال خود کشی میں بڑھتے رجحان کا سبب

سرینگر / /جموںو کشمیر میںموجودہ صورتحال کے بیچ اقتصادی بدحالی اور سماجی انتشار کے باعث خود کشی کا رجحان تشویشناک صورتحال اختیار کرچکا ہے۔ گذشتہ مہینوں سے خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ نوجوان لڑکے لڑکیاں،خواتین اورکمسن بچے زندگی کے مختلف پہلوئوں میں تنگی محسوس کرکے کر موت کو گلے لگاتے ہیں۔ جہاں خودکشی کی خبر سنتے ہی ہر ایک انسان غم میں ڈوب جاتا ہے وہیں اس انتہائی اقدام کے وجوہات کا پتہ لگانے میں غیر معمولی دلچسپی بھی لیتا ہے۔ آئے روز خودکشی کے واقعات سننے کو مل رہے ہیں کہ کسی نوجوان لڑکے یا لڑکیوںنے گلے میں پھندا ڈال کر یا زہریلی شئے کھا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا یا دریا میں چھلانگ لگا کر اپنے آپ کو ہلاک کر دیا۔ ان واقعات سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موجودہ نسل کتنی حساس ہے۔ بلکہ برداشت کی قوت میں بھی ان میں کتنی کمی ہے۔ بروقت نظر پڑنے سے اگرچہ اب تک کئی نوجوانوں کو خودکشی کرنے سے روکا بھی گیا ہے لیکن خودکشی کے ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جو معاشرے کو جھنجوڑنے کے لئے کافی ہیں۔ ایک رپوٹ کے مطابق بھارت میں نوجوانوں میں خودکشی کے معاملات میں پہلے نمبر پر ہے اور سالانہ ایک لاکھ 35 ہزار افراد خودکشی کرتے ہیں۔ اگرچہ جموں و کشمیر خاص کر وادی کشمیر میں خودکشی کے کم وقلیل واقعات رونماہوتے تھے لیکن گزشتہ مہینوںکے دوران یہاں یکے بعد دیگرے خودکشی کے درجنوں واقعات پیش آئے اور اس کا رجحان بڑھ رہا ہے۔اسلام میں خودکشی کرنا سنگین جرم، سخت گناہ اور باعث عذاب قرار دیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی صریحاًممانعت اور مذمت کی گئی ہے جبکہ دیگر مذاہب کی کتابوں میں بھی خود کشی کو خطرناک جرم قرار دیا گیا ہے کیونکہ موت و حیات کا مالک صرف خدائے وحد و لاشریک ہے۔ لیکن جب انسان پر ذہنی تنائو مکمل طور پر حاوی ہو جاتا ہے تو اس کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب انسان کو لگتا ہے کہ شاید موت کو گلے لگانے کے بغیر اس کے پاس اب کوئی بھی راستہ باقی نہیں رہا ہے۔ خود کشی کے اس بڑھتے رجحان کے حوالے سے کئی سماج کے حساس افراد نے کشمیر پریس سروس سے بات کی تو انہوں نے واضح کرتے ہوئے بتایا کہ خود کشی کے مختلف محرکات سامنے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں بے روزگاری کی وجہ سے تعلیم یافتہ نوجوان ذہنی کوفت کے شکار ہوئے ہیں اور بے روز گاری کے ستم سے بہت سے نوجوان اپنے آپ کو زندگی کے خاتمے پر لاکھڑا کرتے ہیں جبکہ اقتصادی بدحالی اور مقابلہ آرائی نے انسانی زندگی میں ایک تنائو پیدا کیا ہے اور لوگ دولت کمانے کی دوڑ میں اس طرح ہیں کہ حلال ہو یا حرام اس میں کوئی تمیز نہیں ہے اور اس دوڑ میں انسان جب ہارتا ہے تو اس کو خود کشی کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا ہے ۔اسی طرح سماجی برائیوں نے نوجوان نسل کو جھنجوڑ کے رکھ دیا ہے اور محبت کے نام پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کی بے رخی یا گھر کے دبائو کے باعث خود کشی کی طرف اپنا من بنالیتے ہیں جبکہ جہیز بدعت یا ازدواجی زندگی میں بگاڑ کی وجہ بہو ،بیوی ،شوہر ،بیٹا ،بیٹی اپنے آپ کو دریا برد کرنے یا زیریلی شئے سے اپنی زندگی کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔موجودہ صورتحال میں تعلیم کا متاثر ہونا ایک اور سبب بنا ہوا ہے کیونکہ کند ذہن اور ناقابل بچے ذہین اور قابل بچوں سے امتحانات میں ان سے سبقت لیتے ہیں تو ذہین وقابل بچے پرآسمان سے جیسے بجلیاں گرتی ہیںاور وہ خودکشی کی جانب گامزن ہوجاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ موجودہ نظام کے ناقص ہونے کی ایک مبینہ وجہ ہے اور ان تمام محرکات کا سدباب صرف اسلام کی تعلیم میں مضمر ہے کیونکہ دینی تعلیم سے انسان حق وناحق کی پہچان اور خود کشی جیسی گھنائونی حرکت سے پرہیز کرسکتے ہیں۔ورنہ ایسا سیلاب ایسا امڈآئے گا جس کو روکنا پھر کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔انہوں نے سماج کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی تعلیم کو عام کرکے نوجوان نسل کو خود کشی کی اس ناسائشتہ حرکت سے بچانے میں رول ادا کریں ۔تاکہ قیمتی زندگیاں ضائع ہونے سے بچ جائیں ۔