انگلینڈ کے سیریز کے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں پاکستان کی ٹیم پہلی اننگز میں 344 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور سعود شکیل کی شاندار سنچری کی بدولت 77 رنز کی برتری حاصل کر لی۔راولپنڈی میں کھیلے جا رہے سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن قومی ٹیم نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 73 سے بیٹنگ کا آغاز کیا، تو کپتان شان مسعود اور سعود شکیل 16، 16 رنز بنا کر کریز پر موجود تھے۔تاہم یہ اسکور میں زیادہ اضافہ نہ کرسکے اور قومی کپتان 26 رنز بنا کر اسپنر شعیب بشیر کی گیند پر سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔اس کے بعد سعود شکیل کا ساتھ دینے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان کریز پر پہنچے، دونوں نے مل کر مجموعہ 151 رنز پر پہنچایا، تاہم ریحان احمد نے اس اہم پارٹنر شپ کا خاتمہ کر دیا۔اس موقع پر محمد رضوان 25 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہو گئے اور 151 رنز قومی ٹیم کے آدھے کھلاڑی پویلین لوٹ گئے تھے۔دوسرے اینڈ پر بائیں ہاتھ کے سعود شکیل نے اچھی بیٹنگ جاری رکھتے ہوئے اپنی نصف سینچری مکمل کی۔پاکستان کو چھٹا نقصان سلمان علی آغا کی صورت میں اٹھانا پڑا، وہ ایک رن بنا کر ریحان احمد کا شکار بنے۔
پاکستانی ٹیم کے آل راؤنڈر عامر جمال بھی ناکام رہے اور ریحان احمد کی گیند پر 14 رنز بنا کر بولڈ ہوگئے۔177 رنز پر 7 وکٹیں گرنے کے بعد پاکستان کی ٹیم مشکلات سے دوچار تھی اور خدشہ تھا کہ وہ پہلی اننگز میں خسارے سے دوچار ہو جائے گی لیکن سعود شکیل نے ساجد اور نعمان کے ہمراہ شاندار بیٹنگ کر کے میچ کا نقشہ بدل دیا۔سعود شکیل اور نعمان نے آٹھویں وکٹ کے لیے 88 رنز کی شاندار ساجھے داری بنائی جس میں نعمان کا حصہ 45 رنز کا رہا تاہم وہ ففٹی مکمل نہ کر سکے اور وکٹ دے بیٹھے۔اس کے بعد ساجد کی وکٹ پر آمد ہوئی جنہوں نے آتے ہی جارحانہ انداز اپنایا اور سعود کے ساتھ مل کر ایک اور بہترین شراکت قائم کی۔دوسرے اینڈ پر موجود سعود شکیل نے 26 رنز پر ڈراپ ہونے والے کیچ سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور شاندار سنچری مکمل کی۔
پاکستانی ٹیم کے نائب کپتان نے ساجد کے ہمراہ نویں وکٹ کے لیے 73 رنز کی شاندار شراکت بنائی جس کی بدولت پاکستانی ٹیم خسارے سے نکل کر برتری لینے میں کامیاب رہی۔سعود شکیل نے 5 چوکوں کی مدد سے 134 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور گس ایٹکنسن کی گیند پر وہ آسان کیچ دے بیٹھے۔اس کے بعد انگلینڈ کو زاہد محمود کی وکٹ لینے میں بالکل بھی دیر نہ لگی اور وہ اپنی پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو گئے جبکہ ساجد خان نے 48 رنز کی عمدہ باری کھیلی۔پاکستان کی پوری ٹیم 344 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی اور پہلی اننگز میں قیمتی 77 رنز کی برتری حاصل کیانگلینڈ کی جانب سے ریحان احمد نے 4 جبکہ شعیب بشیر نے تین وکٹیں حاصل کیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا جو زیادہ درست ثابت نہ ہو تھا، اور پوری انگلش ٹیم 267 رنز پر آؤٹ ہوگی جبکہ ایک بار پھر پاکستانی اسپنرز 10 وکٹیں لے اڑے تھے۔بین ڈکٹ اور زیک کرالی نے ٹیم کو 56 رنز کا آغاز فراہم کیا تھا لیکن ان دونوں کے علاوہ دیگر کھلاڑی ڈبل فیگر میں داخل نہ ہوسکے۔
بین ڈکٹ 52 رنز اور زیک کرالی 29 رنز بنانے کے بعد نعمان علی کا شکار بنے تھے جس کے بعد دیگر تینوں بلے بازوں کو ساجد علی نے پویلین واپس بھیجا۔ اولی پوپ 3 رنز بناکر آؤٹ ہوئے، جو روٹ اور ہیری بروکس 5،5 رنز بنانے کے بعد پویلین واپس لوٹ گئے تھے۔کپتان بین اسٹوکس بھی صرف 12 رنز کے مہمان ثابت ہوئے جس کے بعد جیمی اسمتھ نے گس ایٹکنسن کے ساتھ مل کر 105 رنز کی اہم شراکت قائم کی، ایٹکنسن 39 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تھے۔جیمی اسمتھ صرف 11 رنز کی کمی سے اپنی سنچری مکمل نہ کرسکے تھے، ان کی اننگز میں 6 چھکے اور 5 چوکے شامل تھے۔ان کے بعد ریحان احمد 9 رنز اور جیک لیچ 16 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، اس طرح سے پوری انگلش ٹیم 267 رنز پر آؤٹ ہوگئی تھی۔پاکستانی ٹیم کی جانب سے تمام وکٹیں اسپنرز نے حاصل کیں، ساجد خان نے 6، نعمان علی 3 اور زاہد محمود نے ایک وکٹ اڑائی تھی۔
267 رنز کے جواب میں پاکستان نے اپنی اننگز کا آغاز کیا تو اسے جلد پہلا نقصان عبد اللہ شفیق کی وکٹ کی صورت میں ہوا اور 14 رنز بنا کر انگلش اسپنر ریحان احمد کا شکار بنے۔ان کے بعد دوسرے اوپنر صائم ایوب بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہیں ٹھہر سکے اور وہ 19 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، پاکستان کے تیسرے آؤٹ ہونے والے کھلاڑی گزشتہ ٹیسٹ میں ڈیبیو پر سنچری بنانے والے کامران غلام تھے جو صرف 3 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔اس طرح سے جب تین میچوں کی سیریز کے آخری ٹیسٹ کے پہلے روز کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان ٹیم نے 3 وکٹوں کے نقصان پر 73 بنا لیے تھے، کپتان شان مسعود اور سعود شکیل 16، 16 رنز بنا کر کریز پر موجود تھے اور اسے مہمان ٹیم کے خلاف 194 رنز کے خسارے کا سامنا تھا۔










