نہرو یوا کیندر نے نوجوانوں کو نیشنل یوتھ کارپس سکیم کے تحترَضاکاروں کے طور پر کام کرنے کی دعوت دی

سر کاری کی عدم دلچسپی کے باعث وادی میںپرا ئیویٹ سیکٹر تبا ہی کے دہا نے پر

سرینگر//یوٹی خاص کروادی میںپرا ئیویٹ سیکٹر سرکار کی عدم دلچسپی کی وجہ سے تبا ہی کے دہا نے پر، مرکزی و ریاستی حکومتوں کی جانب سے شروع کی گئی اسکیموںکو برو ئے کار لا نے کیلئے افسر شا ہی سنجیدہ نہیں ،مالیا تی ادارے وقت پر تعلیم یافتہ بیروزگاروں کو لون فرا ہم کرنے میںناکام ،پرا ئیویٹ اداروں میں کام کر رہے ورکروں کی حا لت بندھوا مز دوروں سے بھی بد تر، مہینوں گزر نے کے با وجود ورکروں کی اجرتیں واگزار نہیںکی جارہی ہیں۔ لیبر محکمہ کی جا نب سے پرا ئیویٹ اداروںکو رجسٹر کرنے اور ان میںکا م کرنیوالے ورکروںکو لیبر ایکٹ کے تحت مراعات دینے کے بارے میںکبھی بھی اقدامات نہیںاٹھا رہا ہے ۔خاص کر وادی میں لاک ڈاون اور کووڈ19کی مہاماری کے بعد پرائیویٹ سیکٹروں میں کام کرنے والے افراد کا استحصال کیا جارہا ہے ۔ اداروں کے مالکان کی جانب سے اپنے ورکروں کی مجبور کا فائدہ اُٹھایا جارہا ہے اور ان سے مزدوروں سے بھی بدتر کام لیا جارہا ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیاکے مطا بق اگر یہ کہا جا ئے تو بیجا نہ ہوگا کہ یوٹی خاص کر وادی میںپرا ئیویٹ سیکٹر کا کو ئی وجود ہی نہیں ہے ۔پرا ئیویٹ سیکٹر کو یوٹی میںمضبوط و مستحکم بنا نے کیلئے حکومتوں نے کبھی بھی سنجیدگی کا مظا ہراہ نہیں کیا بلکہ مز دوروں محنت کشوںاور کام کرنے والوں کا ہمیشہ استحصال کیا گیا اور ان لوگوںکے مستقبل کو تابناک بنا نے کیلئے سرکاروںنے کبھی بھی سنجیدگی کا مظا ہراہ نہیں کیا ہیں ۔ریاست میں نا مصا ئد حا لات نے بھی پرا ئیویٹ سیکٹر کو بہت بڑا دھچکا لگا دیا اور وادی کے لوگوں کے ارمان امیدیں ،آرزوئیں کھا ک میں مل گئی ۔نا مسا ئد حا لات نے ہی لیبر محکمہ کو یہ چھوٹ دے دی کہ وہ یوٹی خاص کروادی کشمیرمیں پرائیویٹ سیکٹر میں کا م کرنیوالے ورکروں کے بارے میں کبھی جائزہ لیتا ۔وادی کشمیرمیں لیبر محکمہ سرکاری خزا نے پر ایک بوجھ ہے اس محکمے کے جتنے بھی دعوے کئے ہیں وہ من گھڑت سفید جھوٹ ،فریب کاری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔گزشتہ تین دہا ئیوں سے پرا ئیویٹ اداروںمیں کا م کر نیوالے ورکر اور مزدور چلا رہے ہیں کہ لیبر ایکٹ کے تحت انہیں جو حق ہے وہ دلا نے کی خاطر لیبر محکمہ اپنے اختیارات کا استعمال کرے مگر اس محکمہ کے اعلیٰ حکام نے آ نکھوں پر پٹی با ندھ دی ہے کانوں میں رو ئی ٹھوس دی ہے اسلئے انہیں کو ئی آواز سنا ئی نہیں دی رہی ہیں ۔بیروزگاری کاخاتمہ کرنے کیلئے سینکڑوں اسکیموںکوبرو ئے کار لایا گیا تا ہم وادی کشمیر میںافسر شا ہی ان اسکیموںکو بروئے کار لا نے کیلئے کبھی بھی سنجیدہ نہیں تھی اور ایک منصو بہ بند سا زش کے تحت کشمیروادی میں شروع کی گئی اسکیموںکو ناکام کیا جاتا ہے تا کہ وادی کے لوگ اپنی ٹانگوں پر کھڑا نا ہو سکے ۔مالیا تی ادارے ،تعلیم یافتہ بیروزگاروںکو یونٹ نسب کرنے کیلئے وقت پر لون فرا ہم نہیں کر رہے ہیں اور بغیر رجسٹر یشن جن چھوٹے بڑے پرائیویٹ اداروںمیں تعلیم یافتہ بیروزگار اپنی پیٹ کی آگ کو بجھا نے کیلئے خدمات انجام دیتے ہیں ان کحالت بندھوں مزدوروں سے بھی بد تر ہے مہینوں گزر جاتے ہے ان کی اجرتیںواگزار نہیںکی جاتی ہے انہیں مراعات کے قا بل نہیں سمجھا جاتا ہے لیبر محکمہ نے کبھی بھی پرا ئیویٹ اداروں کے بارے میں نہ تو جانکاری حاصل کی نہ انہیں رجسٹر کرنے کیلئے اقدامات اٹھا ئے ہے اس محکمہ میںکا م کر نیوالے مفت کی روٹی توڑ نے کے عادی ہوگئے ہے نہ انہیں نابالغ بچوں کی مزدوری نظر آ رہی ہے اور نہ اس محکمہ کے اعلیٰ حکام کو ریاست خاص کر وادی میں پرا ئیویٹ سیکٹر کو فروغ دینے اور پرا ئیویٹ اداروںمیں کا م کر نیوالے کے مستقبل کو تابناک بنا نے کی کو ئی فکر ہے یہی وجہ ہے کہ وادی کشمیر جو گھریلوں دستکاری ،پیپر معاشی ،شالبافی ،نمدہ سازی کیلئے دنیا میںمنفرد مقام رکھتی تھی آج اس وادی میں لوگ اقتصادی بد حالی کاشکار ہوکر اپنی پیٹ کی آگ کوبجھا نے کیلئے طرح طرح کے مسا ئب و مشکلات سے گزر رہے ہیں ۔خاص کر کووڈ19کے نتیجے میں لاک ڈاون کے بعد پرائیویٹ سیکٹروں میں کام کرنے والے افراد کا استحصال شروع کیا گیا ہے اور تمام قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر پرائیوٹ اداروں میں کام کرنے والوں سے اضافی کام لیا جارہا ہے ۔ سرکار کی جانب سے اگرچہ کئی بار یہ بات دہرائی گئی کہ پرائیویٹ اداروں کے ملازمین کے ساتھ سختی نہ برتی جائے ان سے اضافی کام نہ لیا جائے اور ان کی اُجرتوں میں کٹوتی نہ کی جائے تاہم ان ہدایات کو سرے سے ہی نظر انداز کیا گیا ہے ۔