اسپتالوں کے بعد کھاد کی دکانوں اور کار شورومز میں بھی تلاشی کارروائیاں
سرینگر/وی او آئی//سری نگر پولیس نے حفاظتی اقدامات اور ضابطہ جاتی اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے گزشتہ دو روز کے دوران اسپتالوں کے ساتھ ساتھ کیمیکل و کھاد کی دکانوں اور کار شورومز میں بھی وسیع جانچ کارروائیاں انجام دیں۔ یہ کارروائیاں ایس ایس پی سری نگر جی وی سندیپ چکرورتی کی نگرانی میں خصوصی ٹیموں نے کیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق، یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے جب جموں و کشمیر پولیس نے اتر پردیش اور ہریانہ پولیس کے ساتھ مل کر ایک “وائٹ کالر ٹیرر” ماڈیول کو بے نقاب کیا اور تین ڈاکٹروں سمیت کئی افراد کو گرفتار کیا۔ تحقیقات میں سامنے آیا کہ امونیم نائٹریٹ کی غیر منظم فروخت، سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کی خریداری اور اسپتال کے لاکرز میں اسلحہ چھپانے جیسے معاملات اس نیٹ ورک سے جڑے ہوئے تھے۔ گزشتہ دو دنوں میں پولیس نے مختلف اسپتالوں اور ہیلتھ سینٹروں کے لاکرز اور اسٹوریج ریکس کی جانچ کی تاکہ کوئی غیر قانونی یا خطرناک مواد موجود نہ ہو۔ یہ جانچ اس وقت کی گئی جب اننت ناگ کے گورنمنٹ میڈیکل کالج کے ایک ڈاکٹر کے لاکر سے اے کے رائفل برآمد ہوئی تھی۔ اسپتال عملے کو ہدایت دی گئی کہ لاکرز صرف سرکاری استعمال کے لیے رکھے جائیں اور مکمل ریکارڈ برقرار رکھا جائے۔ جمعہ کو پولیس نے شہر کے تجارتی شعبے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کھاد اور کیمیکل دکانوںکی جانچ کی۔ اس دوران اسٹاک اور سیلز ریکارڈ، بڑے خریداروں کی شناختی تصدیق، مواد کی محفوظ ذخیرہ اندوزی اور لائسنس کی درستگی کو پرکھا گیا۔ دکانداروں کو تاکید کی گئی کہ مشکوک لین دین کی فوری اطلاع دیں اور مکمل شفافیت اختیار کریں۔ اسی طرح پولیس نے کار شورومز میں بھی حفاظتی جانچ کی تاکہ گاڑیوں کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ شورومز میں اسٹاک اور سیلز ریکارڈ، خریداروں کی شناختی تصدیق، لائسنس کی جانچ اور حفاظتی اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا۔ کار ڈیلرز کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ہمیشہ چوکس رہیں اور کسی بھی مشکوک لین دین کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔ پولیس نے واضح کیا کہ یہ جانچ کارروائیاں شہر بھر میں سلامتی کو مضبوط بنانے اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جاری رہیں گی۔










