acid attack srinagar

سری نگر میں لڑکی پر تیزاب پھینکنے کے معاملے میںکارروائی تیز

مین ملزم سمیت3افراد گرفتار،سکوٹی ضبط ،ورکشاپ سیل

سری نگر//سری نگر کے عیدگاہ علاقے میں منگل کی شام ایک لڑکی پر تیزاب سے حملہ کرنے کے بعد پولیس نے بدھ کو تین افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔جبکہ اس واقعے میں استعمال کی گئی سکوٹی کو ضبط کر کے دکان کو سیل کیا گیا ہے جہاں سے تیزاب حاصل کیا گیا تھا ۔ادھر واقعے کے خلاف سری نگر میں احتجاج ہوا ہے جبکہ مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھ نے والے لوگوں نے واقعے پر شدید الفاظ میں مذمت کی ہے ۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق پولیس نے بدھ کے روز ایک بیان میںبتایا کہ یکم فروری کی شام کو سری نگر پولیس کو پولیس اسٹیشن نوہٹہ کے تحت آنے والے علاقے حول میں ایک 24سالہ لڑکی پر تیزاب پھینکے جانے کی اطلاع ملی۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 08/2022کے تحت پولیس اسٹیشن نوہٹہ میں درج کیا گیا تھا اور فوری طور پر تحقیقات شروع کی گئی تھی۔انہوں نے بتایا کہ چونکہ یہ معاملہ سنگین نوعیت کا تھا، ایس ایس پی سری نگر نے فوری طور پر ایس پی نارتھ راجہ ذہیب جے کے پی ایس کے ساتھ ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس کا چیئرمین اور ایس ڈی پی او خانیار، ایس ایچ او نوہٹہ، ایس ایچ او صفاکدل اور ایس ایچ او خواتین پی ایس کو بطور ممبر بنایا گیا۔پولیس نے بتایاابتدائی فیلڈ انوسٹی گیشن اور تکنیکی تجزیہ کے دوران، ایک مشتبہ شخص کا نام سامنے آیا جس کی وجہ سے مرکزی ملزم ساجد الطاف راتھر ولد محمد الطاف راتھرساکن ڈلگیٹ بچھوارہ کو گرفتار کیا گیا۔ ایس آئی ٹی نے اس اہم ملزم کو گرفتار کر لیا کیونکہ اس کا کردار نمایاں ہو گیا تھا۔ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملزم کو لڑکی میں دلچسپی تھی اور جب سے اس نے اس کی منگنی کی تجویز مسترد کر دی تھی اس لیے وہ اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ گرفتار ملزمان نے اس حملے سے بہت پہلے ہی لڑکی کے اوقات کار کو نوٹ کر لیا تھا۔ ملزم ایک میڈیکل شاپ پر کام کرتا تھا اور گزشتہ شام کو وہ کام سے بریک لے کر اسکوٹی پر اس جگہ کی طرف چلا گیا جہاں لڑکی ایک ساتھی ملزم مومن نذیر شیخ ولد نذیراحمد شیخ کے ساتھ کام کرتی تھی۔ دیر شام متاثرہ خاتون کے گھر واپسی پر اس کا پیچھا کیا گیا اور اس پر تیزاب پھینک دیا گیا اور اس کے بعد ملزم بھاگ کر واپس اپنی دکان پر چلا گیا۔ کیس میں مزید شواہد سامنے آنے پر اس دوسرے ملزم کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس گھناؤنے جرم میں استعمال ہونے والی اسکوٹی کو بھی پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔مزید یہ بات سامنے آئی کہ ملزم نے یہ تیزاب اپنے ایک جاننے والے محمد سلیم ولد عبدالغنی ساکن پادشائی باغ سے خریدا تھا جو ایک موٹر مکینک ہے جو ڈل گیٹ کے قریب درگا ناتھ کے قریب انٹرنیشنل موٹرز میں کام کرتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تیسرے ملزم کو بھی مزید جانچ کے لیے گرفتار کر لیا گیا ہے۔اس ورکشاپ کو سیل کرنے کے لیے قانونی کارروائی بھی شروع کی گئی تھی کیونکہ اس کے ایک ملازم نے سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیزابی مواد فروخت کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس دکان کو ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے ذریعہ مناسب طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے سیل کیا گیا تھا۔ سری نگر کے تمام دکانداروں کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ تیزاب کی فروخت پر سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کریں، ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر جلد ہی ایک خصوصی مہم شروع کی جائے گی۔ادھر اس واقعے کو کشمیر میں رونما ہونے کے ساتھ ہی پورے کشمیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ بدھ کے روز لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مذمت کی ہے ۔سری نگر جہانگری چوک میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعدادنے جمع ہو کر زور دار احتجاج کیا ۔احتجاج میں شامل لوگوں نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڑ اٹھائے تھے جس پر’’ملزم کو پھانسی‘‘دو کے نعرے درج تھے ۔لوگ ایسے افراد کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ احتجاجیوں نے کہا کہ آج تک اگر اس طرح کے جرم میں ملوث افراد کو ملک میں سزا مل گیا ہو تا تو آج یہ نوبت نہیں آتی ۔ متحدہ مجلس علما جموں وکشمیر نے پائین شہر کے عثمانیہ کالونی وانٹہ پورہ کے نزدیک منگل کی شام ایک 24سالہ دو شیزہ پر تیزاب پھینکنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی میں سماجی اور معاشرتی صورتحال روبہ زوال ہے۔مجلس کی طرف سے بدھ کو جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ہمارا معاشرہ ہر سطح پر مجموعی طور پر روبہ زوال ہو رہا ہے۔بیان میں کہا گیا: ’بے راہ روی کے بڑھتے ہوئے واقعات ، منشیات کی سنگین وبا کا پھیلائو، خودکشی کا بڑھتا ہوا رحجان ، گھریلو تشدد کے روح فرسا سانحات ، بچوں اور نوجوانوں میں عدم برداشت اور صبر و تحمل کا فقدان اور بے دینی کا فروغ ہر ذی حس اور باشعور شہری کیلئے حد درجہ تشویش ناک ہے‘۔