سری نگر، یکم فروری / تیس برسوں کے ریکارڈ کو توڑنے والی سردیوں کے ایک روز بعد پیر کی صبح جب گرمائی دارلحکومت سری نگر میں لوگ نیند سے اٹھے تو برف کی ایک مہین چادر بچھ گئی تھی جس سے سڑکوں پر پھسلن پیدا ہونے سے ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل متاثر ہوئی۔
دریں اثنا وادی کشمیرمیں مطلع ابر آلود رہنے سے شبانہ درجہ حرارت میں بہتری واقع ہونے سے لوگوں کو ٹھٹھرتی سردی سے قدرے راحت نصیب ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب رواں سیزن کی سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا جس سے سردیوں کو تیس سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔
بتادیں کہ قبل ازیں سری نگر میں رواں سیزن کے دوران 14 جنوری کو سرد ترین رات درج ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.4 ڈگری ریکارڈ ہوا تھا اور سردیوں کا پچیس سالہ پرانا ریکارڈ ٹوٹ گیا تھا۔
وادی کے مشہور دہر سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.2 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ وادی کے دوسرے مشہور سیاح مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے۔
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 2.9 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں منفی 7.6 ڈگری سینٹی گریڈ اور ککر ناگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 9.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
وادی میں پیر کے روز موسم خشک مگر ابر آلود رہا جبکہ گرمائی دارلحکومت اور دیگر کچھ علاقوں میں جب لوگ صبح کو نیند سے اٹھے تو برف کی ایک مہین چادر بچھ گئی تھی جو دن آگے بڑھنے کے ساتھ غائب تو ہوئی لیکن صبح کے وقت ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل میں رکاوٹ کا باعث بن گئی۔
وادی میں جاری سردیوں سے آبی ذخائر اور گھروں میں نصب نل اور پانی کی ٹنیکیوں میں پانی کے جم جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
وادی میں نلوں میں پانی جم جانے کا سلسلہ جاری رہنے سے پینے کے پانی نے بحرانی صورتحال اختیار کی ہے اور لوگوں خاص کر خواتین کا پانی کی تلاش میں گھوں سے ٹھٹھرتی سردی میں نکلنا اب ایک معمول بن گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی میں 3 فروری کو ہلکے سے درمیانی درجے کی برف باری ہوسکتی ہے تاہم اس کے بعد موسم میں ایک بار پھر بہتری واقع ہونے کی امید ہے۔
متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وادی میں جاری سردی کی شدت میں بھی مطلع ابر آلود رہنے سے کمی واقع ہوگی۔
وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی 270 کلو میٹر طویل سری نگر- جموں قومی شاہراہ پر پیر کی صبح ایک مٹی کا تودے گر آنے سے ٹریفک کی نقل و حمل متاثر ہوئی۔
ایک ٹریفک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ بانہال علاقے میں ایک مٹی کا تودا گر آںے سے قومی شاہراہ پر پیر کی صبح ٹریفک کی نقل وحمل متاثر ہوئی۔
انہوں نے بتایا تاہم متعلقہ ایجنسیوں نے تودے کے ملبے کو شاہراہ سے ہٹانے کے لئے فوری طور پر مشینری اور نفری کو کام پر لگادیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ قومی شاہراہ پر پیر کو گاڑیوں کو بارہ بجے کے بعد سری نگر سے جموں روانہ ہونے کی اجازت ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سردیوں کا بادشاہ چالیس روزہ چلہ کلان ہفتے کے روز اختتام پذیر ہوا اور اتوار سے بیس روزہ چلہ خورد تخت نشین ہوا اگرچہ اس چلہ کے دوران سردیوں کا زور بتدریج تھمنے لگتا ہے لیکن اس نے جس طرح اپنی آمد کا اعلان کیا ہے اس سے لگتا ہے کہ یہ بھی اپنا زور دکھانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گا۔










