سری نگر//ڈپٹی کمشنر سری نگر نے ضلع کے تمام مالیاتی اور کاروباری یونٹ ہولڈروں سے کہا ہے کہ وہ “اچھے معیار ” کے سی سی ٹی وی کیمروں کا استعمال کریں اور ’کلوز سرکٹ ٹیلی ویڑن سسٹم ‘میں کسی بھی مشکوک نقل و حرکت کا مشاہدہ کرنے کی صورت میں اپنے قریبی پولیس تھانہ کو مطلع کریں۔اس دورا ن ٹریڈرس ایسوسی ایشن کے ایک زمہدار شوکت احمد گنگ پوش نے بتایا ہمیں دعوت دی گئی تمام سٹیک ہولڈروں نے میٹنگ میں شرکت کی اور نے انتظامیہ کومکمل تعاون کا بھروسہ دیا۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق یہ حکم 5 اپریل سے پہلے ہی نافذ ہو چکا ہے اور 60 دنوں کی مدت کے لیے نافذ رہے گا۔اس حکم کی کوئی بھی خلاف ورزی انڈیا پینل کوڈ 1680 کے سیکشن 188 کے تحت قانونی کاروائی کی مرتکب ہو گی۔اس کے مطابق ایک شخص کو ایک مدت کے لیے سادہ قید کی سزا دی جا سکتی ہے جو ایک ماہ تک ہو سکتی ہے یا جرمانہ جو کہ دو سو روپے تک ہو سکتا ہے، یا دفعہ 188 آئی پی سی کے تحت دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ “ملک دشمن اور تخریبی عناصر” کے ذریعہ جموں و کشمیر میں معصوم شہریوں کو چن چن کر نشانہ بنانے کے حالیہ بڑھتے ہوئے واقعات سے متعلق موجودہ مسلسل خطرے کے پیش نظر، “جان و مال” کی مشینری کی حفاظت کے لیے مناسب ٹیکنالوجی کے استعمال سمیت متعدد اقدامات کی ضرورت ہے۔اْنہوں نے کہا، ’’یہاں بہت سے بینکنگ اور مالیاتی/کاروباری ادارے موجود ہیں جیسے بینک/اے ٹی ایم، زیورات کی دکانیں، پیٹرول پمپ، شاپنگ مال، ریستوراں، ہوٹل، سنیما ہال، شراب اور بیئر کی دکانیں، کھانے پینے کی جگہیں، ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانیں، شو روم، چھوٹے بازار، تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں، بس سٹینڈز، ریلوے سٹیشن، ہوائی اڈے، ہسپتال اور دفاتر، جہاں لین دین نقدی میں ہوتا ہے یا ایسی جگہ جہاں پر 50 یا اس سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ اس طرح کے اداروں کے بیرونی علاقوں کا احاطہ کرنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے سی سی ٹی وی کی تنصیب سے نہ صرف جرائم پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ انسانی جانوں کو لاحق خطرات کو روک کرکاروبار، سیاحت اور معاشرے کی مجموعی ترقی کو فروغ دینے میں بھی مدد ملے گی۔اس دوران ٹریڈ رس کے ایک زمہ دار شوکت احمف گنگ پوش نے بتایا ہمیں دعوت دی گئی تھی جہاں ہم میٹنگ میں شریک ہوئے ۔انہوں نے بتایا اس میٹنگ میں باقی سٹیک ہولڈروں کے ساتھ ساتھ ڈی ایس پی، اور ایس ایچ او کے ساتھ ساتھ باقی افسران بھی موجود رہے ہیں انہوں نے بتایا ہمیںنے انہیں اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے انہوں نے بتایا جہاں جہاں پرانے کیمرے نصب ہیں وہاں ان کیمروں کو اپگریڈ کرنے کی ضرورت ہے ۔










