پاکستان اپنی فضائی حدودکے استعمال کیلئے آمادہ نہیں
سری نگر//پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے ایک ہندوستانی ایئر لائن کو کشمیر سے متحدہ عرب امارات تک پروازیں چلانے کیلئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ہندوستان میں حکام کے مطابق، پاکستان نے منگل کو گو فرسٹ کی سری نگر،شارجہ پرواز کو، جو پہلے ’گوائیر ‘ کے نام سے جانی جاتی ہے، کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، اور اسے لمبا راستہ اختیار کرنے اور متحدہ عرب امارات میں اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے گجرات کے اوپر سے پرواز کرنے پر مجبور کیا۔گزشتہ روزاسلام آبادمیں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان نے ان (سرینگر،شارجہ) پروازوں کی اجازت دیتے وقت پاکستانی دفتر خارجہ کو آن بورڈ لیا تھا اور یہ اجازت کب منسوخ کی گئی تھی۔اس پرترجمان موصوف نے کہاکہ ایسی پروازوں کیلئے اوئور فلائٹ کی اجازت سے انکار کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے پاس تکنیکی تفصیلات ہوں گی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس مسئلے کے مختلف پہلو ہیں اور متعلقہ حکام اس سے پوری طرح گرفت میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیرایک طویل عرصے سے تنازعہ کے طور پر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر اس کی قرارداد اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حتمی فیصلہ تک زیر التواء ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے کشمیر کے دورے کے دوران 500 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے کا اعلان کرنے کے بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمدنے کہا کہ بقول موصوف کے مبینہ سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبے بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔جب ان سے کشمیر میں بنیادی ڈھونچے اور دیگر منصوبوں میں متحدہ عرب امارات کی منصوبہ بند سرمایہ کاری کے بارے میں پوچھا گیا تو ترجمان موصوف نے کہا کہ ہم اپنے دوستوں کو حساس بنانے اور ان کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔










