سری نگر//سرینگر کے متعدد بڑے عبادت گاہوں میں 6اگست2021ء کے بعد پھر ایک بار نماز جمعہ ادا کرنے کی جازت نہیں دی گئی ہے جس پر عوامی حلقوں جن میں خاص کر عقیدت مندوں نے ناتاض گی کا اظہار کیا ۔کشمیر نیوز سروس کو موصولہ ایک بیان میںانجمن اوقاف جامع مسجد سرینگر نے6 اگست2021 کے بعد سے ایک بار پھر مسلسل کشمیر کی سب سے بڑی عبادتگاہ مرکزی جامع مسجد سرینگر سمیت آثار شریف درگاہ حضرتبل، روحانی مرکز خانقاہ معلی، آستانہ عالیہ حضرت سلطان العارفین مخدوم صاحب، آستانہ عالیہ خانیار،آستانہ عالیہ نقشبند صاحب اور دیگر کئی اہم مقامات پر لوگوںکو نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے عوامی بے چینی اور غم و غصے میں شدید اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے عوا م کے مذہبی جذبات کو زبردست ٹھیس پہنچ رہا ہے جو ان کے مذہبی فرائض کو ادا کرنے کی راہ میں حائل کئے گئے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ حکام کی جانب سے ایک طرف کووڈ کی آڑ میں کشمیر میں بڑی بڑی عبادتگاہوںکو بند کیا جانا اور دوسری جانب پبلک مقامات ، پارکس، بازار، اور تعلیمی اداروںکو کھولنے کی اجازت دینا دوہرے معیار کا عکاس ہے اور اس طرح کی پالیسی سے حکمرانوں کی نیت کا اندازہ ہوتا ہے۔انجمن اوقاف نے یہ بات پھر واضح کی کہ مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کیلئے آنے والے نمازی اور زائرین معیاری کوڈ19 ایس او پیز کا بھر پور خیال رکھتے ہیںاس کے باوجود عوام الناس مذہبی فریضہ ادا کرنے سے روکنا صریحاً مداخلت فی الدین ہے جو عوام کیلئے قابل قبول نہیں ہے۔اس دوران انجمن نے معروف عالم دین ، مجلس احرار ہند کے امیر، ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کے مخلص رہنمااور جامع مسجد لدھیانہ پنجاب کے شاہی خطیب و امام جناب مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کے انتقال پْر ملال پر گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔انجمن نے اپنے اور نظر بند رکھے گئے سربراہ میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی جانب سے مرحوم کے خاندان کے اکابرین اور بزرگوں کی جانب سے خطہ پنجاب میں طویل اور مسلسل بے لوث دینی ، تبلیغی اور اصلاحی خدمات کیلئے شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا اور کہا کہ مولانا کی شخصیت اہل پنجاب اور بھارت کے دینی حلقوں کیلئے ایک بڑا بھاری نقصان ہے کیونکہ مولانا مرحوم کی ذات پنجاب کے مسلمانوں کیلئے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی تھی۔اس دوران مرحوم مولانا کے برادر جناب مولانا عثمان لدھیانوی کے ساتھ دلی تعزیتی، ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔










