سرینگر کے اسپتالوں میں کنٹریکچول خاکروب تنخواہوں سے محروم

سرینگر کے اسپتالوں میں کنٹریکچول خاکروب تنخواہوں سے محروم

کئی ماہ کی تاخیر، پی ایف جمع نہ کرنے کا الزام، حکام سے مداخلت کی اپیل

سرینگر// یو این ایس//سرینگرکے سرکاری اسپتالوں اور گورنمنٹ میڈیکل کالج سے منسلک اداروں میں کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات صفائی کرمچاری (خاکروب) کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ متاثرہ ملازمین، جن کی تعداد تقریباً 200 بتائی جاتی ہے، نے الزام عائد کیا ہے کہ متعلقہ نجی کنٹریکٹر انہیں نہ صرف بروقت تنخواہیں فراہم نہیں کر رہا بلکہ ان کے پروویڈنٹ فنڈ (پی ایف) کی رقم بھی جمع نہیں کی جا رہی۔خاکروبوں نے بتایا کہ انہیں کئی کئی ماہ تک تنخواہوں سے محروم رکھا جاتا ہے اور طویل انتظار کے بعد صرف ایک ماہ کی تنخواہ ادا کی جاتی ہے، جس کے باعث ان کے گھریلو حالات انتہائی ابتر ہو چکے ہیں۔ یو این ایس سے بات کرتے ہوئے عبدالرشید شیخ، شکیلہ بانو، ممتازہ اور حسینہ سمیت متعدد ملازمین نے کہا کہ ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اور بارہا اعلیٰ دفاتر سے رجوع کرنے کے باوجود انہیں انصاف نہیں ملا۔ملازمین نے مزید الزام لگایا کہ کنٹریکٹر نے ٹینڈر دستاویزات میں پی ایف کی شق شامل کی ہوئی ہے اور متعلقہ اداروں سے اس مد میں ادائیگی بھی حاصل کی جاتی ہے، تاہم یہ رقم ملازمین کے کھاتوں میں منتقل نہیں کی جا رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نہ صرف تنخواہوں میں بے ضابطگیاں جاری رہیں بلکہ ان کے پی ایف اکاؤنٹس بھی خالی رکھے گئے۔خاکروبوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جب بھی وہ اپنی تنخواہوں یا حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور بعض معاملات میں ملازمت سے برطرف بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق’’ اسی مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے عدالت سے بھی رجوع کیا ہے، تاہم کنٹریکٹر کی جانب سے کیس واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔‘‘متاثرہ ملازمین نے کہا کہ مذکورہ کنٹریکٹر کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور انہیں واجبات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے، جس سے دیگر ملازمین میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جائے اور فوری مداخلت کر کے انہیں ان کا حق دلایا جائے تاکہ ان کے خاندانوں کو بنیادی ضروریات کے لیے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ کنٹریکٹر کی ٹینڈر مدت ختم ہونے کے باوجود نہ تو اسے جوابدہ بنایا جا رہا ہے اور نہ ہی نئے ٹینڈر کے اجرا کے لیے کوئی پیش رفت ہو رہی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ملازمین نے عدالت سے بھی انصاف کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے انہیں ان کے حقوق حاصل ہوں گے۔اس سلسلے میںگورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے پرنسپل سے موقف جاننے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ قائم نہ ہو سکا۔