Wired bridges in Srinagar "Deer Aide, Right Aide"

سرینگر میں پلوں کی تار بندی “دیر آئد، درست آئد”

کاروباری انجمنوںکا ماہر کوسٹ گارڈوں کی تعیناتی اور رفتار بڑانے کا مطالبہ

سرینگر//کشمیر اکنامک الائنس نے سرینگر میں پلوں کے ارد گرد تار بندی اور جنگلہ لگانے کے انتظامی فیصلے کو “دیر آئد، درست آئد” قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ پلوں کے اطراف میں ماہر کوسٹ گارڈوں کی تعیناتی کی جائے اور انہیں ضروری ساز و سامان فراہم کیا جائے۔الائنس کے شریک چیئرمین، فاروق احمد ڈار، نے انتظامیہ کی جانب سے پلوں کی تار بندی کو ایک خوش آئند اقدام قرار دیا اور کہا کہ “اگر یہ فیصلہ پہلے کیا جاتا، تو کئی قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچائی جا سکتی تھیں۔” ڈار نے یاد دلایا کہ 27 جون کو پریس کانفرنس میں الائنس نے پلوں کے اطراف جال بندی کی درخواست کی تھی، اور اگر مالی وسائل کی کمی تھی تو الائنس خود چندہ جمع کرنے کے لیے تیار تھی۔ مگر ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود انتظامیہ نے کوئی کارروائی نہیں کی۔اب جبکہ انتظامیہ نے بیداری کا مظاہرہ کیا ہے، ڈار نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ “الائنس اس میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ کو پلوں کے اطراف ماہر کوسٹ گارڈوں کی تعیناتی اور انہیں جدید ساز و سامان فراہم کرنا چاہیے تاکہ ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکے۔فاروق احمد ڈار نے سیول سوسائٹی اور علمائے کرام سے اپیل کی کہ وہ خود کشیوں کے خلاف مؤثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا، “علمائے کرام کو چاہیے کہ جمعہ کے خطبات میں خود کشیوں کے نقصانات اور اس سے بچنے کے طریقے بیان کریں۔” انہوں نے وضاحت کی کہ “اسلام نے خود کشی کو حرام قرار دیا ہے اور خود کشی کرنے والوں کے جنازے ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔”ڈار نے سیول سوسائٹی سے بھی درخواست کی کہ وہ خود کشیوں کی بنیادی وجوہات پر توجہ دیں اور ان پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ نوجوانوں کو انہوں نے یہ پیغام دیا کہ “مشکلات سے خوفزدہ ہونے کے بجائے ان کا سامنا کرنے کا جذبہ پیدا کریں، کیونکہ ہر چیلنج آپ کی طاقت کو مزید نکھارتا ہے۔”اس دوران سرینگر:خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات، خاص طور پر دریائوں و جھیلوں میں چھلانگ لگانے کے واقعات کے پیش نظر، کشمیر ٹریڈ الائنس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سری نگر میں تمام پلوں پر تار لگانے کا عمل تیز کیا جائے۔شمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدار نے سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے شہر کے مختلف اہم پلوں حبہ کدل، نوا کدل، فتح کدل، گوز کدل، صفاکدل، اور نور جہاں پل قمر واری پر باڑ لگانے کے حالیہ فیصلے کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ شہدار نے کہا، “ہم ڈپٹی کمشنر سری نگر کے ان اہم پلوں پر تارلگانے کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ یہ ایک اہم قدم ہے جو ہ شہر میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کا حل فراہم کرے گا۔”ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر نے 10 ستمبر 2024 تک تار لگانے کے کام مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی ہے اور کہا ہے، “باڑ لگانے کے کام کو 10 ستمبر 2024 تک مکمل کیا جائے تاکہ قیمتی انسانی زندگیاں بچائی جا سکیں۔”شہدار نے مزید کہا کہ، “کشمیر ٹریڈ الائنس کا یقین ہے کہ پلوں پر باڑ لگانا ایک اہم اقدام ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ ہم حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ ایک جامع منصوبہ بندی کی جائے جس میں بہتر ذہنی صحت کی خدمات، سماجی رابطہ پروگرامز، اور عوامی آگاہی مہمات شامل ہوں۔”ان کا کہنا تھا”ہر ضائع ہونے والی زندگی ایک سانحہ ہے جو ہم سب پر اثر انداز ہوتا ہے، اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ایک معاون ماحول فراہم کریں جہاں افراد اپنی تاریک ترین لمحوں میں امید اور مدد حاصل کر سکیں۔”شہدار نے کہا کہ کشمیر ٹریڈ الائنس مقامی حکام اور ذہنی صحت کے پیشہ ور افراد کے ساتھ مل کر اضافی حکمت عملیوں کی تیاری اور ان پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے جو خودکشی کے بنیادی اسباب کا مقابلہ کریں اور کشمیر میں مجموعی بہبود کو فروغ دیں۔