عوام کا کہنا ہے کہ محکمہ شکایات کے بعد حرکت میں آتا ہے، معمول کی نگرانی غائب
سرینگر//وی او آئی//فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ نے جمعہ کو سرینگر کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے، یہ کارروائیاں اس وقت کی گئیں جب مارکیٹ میں مبینہ طور پر ملاوٹ شدہ انڈوں کی فروخت کی شکایات سامنے آئیں۔ حکام نے کہا کہ اصل صورتحال لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہوگی، تاہم اس واقعے نے ایک بار پھر محکمہ کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وادی بھر میں عوامی رائے یہ ہے کہ محکمہ صرف اس وقت حرکت میں آتا ہے جب کوئی شکایت درج ہو، کوئی ویڈیو وائرل ہو یا عوامی غصہ سامنے ا?ئے۔ حالیہ دنوں میں بوسیدہ گوشت، مشتبہ ملاوٹ شدہ انڈے اور ناقص معیار کی اشیائے خورد و نوش کے معاملات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ معمول کی نگرانی اور مستقل جانچ کا نظام موثر طریقے سے موجود نہیں ہے۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 اور رولز 2011 کے تحت محکمہ پر لازم ہے کہ وہ عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ معائنہ کرے، مختلف اشیاء کے نمونے تجزیے کے لیے اٹھائے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ تاہم تاجروں اور صارفین کا کہنا ہے کہ یہ ذمہ داریاں صرف کبھی کبھار پوری کی جاتی ہیں، مستقل بنیادوں پر نہیں۔ حکام نے بتایا کہ مشتبہ انڈوں کے نمونے لیبارٹری کو بھیجے گئے ہیں اور رپورٹ کے بعد ہی مزید کارروائی کی جائے گی۔ لیکن عوام کا کہنا ہے کہ محکمہ کو اپنی نگرانی کا دائرہ وسیع کرنا چاہیے تاکہ ناقص یا ملاوٹ شدہ اشیاء مارکیٹ تک پہنچنے ہی نہ پائیں۔ صارفین نے زور دیا کہ محکمہ کو شکایات یا سوشل میڈیا پر شور شرابے کے بجائے خود سے فعال نگرانی کرنی چاہیے۔ یہ بار بار کی ناکامیاں وادی میں خوراک کی فراہمی کے نظام پر عوامی اعتماد کو متزلزل کر رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جب تک محکمہ معمول کی جانچ کو مضبوط نہیں کرتا اور ایک قابلِ اعتماد نگرانی کا نظام قائم نہیں کرتا، مارکیٹ میں ملاوٹ کے واقعات بار بار سامنے ا?تے رہیں گے، جنہیں بروقت اور مو?ثر نگرانی سے روکا جا سکتا تھا۔










