عدالت نے ایک سال خصوصی ٹرائل چلانے کے بعد ملوث شخص کو مجرم قراردیتے ہوئے عمر قید اور 40لاکھ جرمانے کی سزا سنائی
سرینگر//24سالہ دوشیزہ پر تیزاب سے حملے کرنے والے کلیدی مجرم کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے اسے عمرقید کی سزا اور40لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے ۔ سرینگر کی ایک عدالت میں پرہجوم ایوان میں فیصلہ سناتے ہوئے جج موصوف نے کہا کہ یہ فیصلہ دوسرے ایسے مجرمانہ ذہنیت رکھنے والوں کیلئے عبرت بنے گا ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سال 2022میں سرینگر کے حول علاقے میں ایک لڑکی پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں گرفتار شخص کو عدالت نے قصور وار قراردیتے ہوئے اسے عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔ پرنسپل سیشن جج سرینگر جواد احمد کی عدالت نے بچھوارہ ڈل گیٹ کے مرکزی مجرم ساجد الطاف شیخ کے خلاف ایک کھچا کھچ بھری عدالت میں سزا کا اعلان کیا۔ عدالت نے شیخ پر 40 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔واضح رہے کہ رواں ہفتے سوموار کے روزسرینگر کی عدالت نے 2022 میں سرینگر کے علاقے حول میں ایک 24 سالہ لڑکی پر تیزاب پھینکنے کے مقدمے میں ایک شخص کو مجرم قرار دیاتھا ۔ مقدمے میں شریک ملزم کو اہم الزامات سے بری کر دیا گیا لیکن قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تیزاب فروخت کرنے کا مجرم پایا گیاتھااور دودنوںبعد6مارچ 2024یعنی بد ھ کو عدالت نے حول میں ایک خاتون پر تیزاب پھینکنے کے الزام میں ایک شخص کو عمر قید کی سزا سنائی۔یکم فروری 2022 کی شام کو 24سالہ دوشیزہ پرمجرم نے حول کے مقام پر تیزاب پھینکا تھا کیوں کہ لڑکی نے لڑکے کی شادی کی تجویز کو مسترد کردیا تھا ۔ حملے کے فوراً بعد پولیس نے اُس وقت کے ایس پی نارتھ راجہ ذہیب (جے کے پی ایس) کی سربراہی میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس میں اُس وقت کے (ایس ڈی پی او) خانیار،یاسر پرے، تھانہ صفاکدل، نوہٹہ کے ایس ایچ اوز کے علاوہ سری نگر ویمن پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او بھی اس کیس کی تحقیقات کے لیے ممبر تھے اور پولیس نے مستعدی سے کام لیتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرکے متعلقہ دفعات کے تحت کیس درج کرلیا تھا اور ایک سال تک چلے خصوصی ٹرائل کے دوران پولیس نے تمام شواہد اور ثبوت مجاز عدالت میں پیش کرکے ملزم کے خلاف کڑی سے کڑی سزا سنانے کی اپیل کی تھی ۔










