مختلف مقامات پر درماندہ مسافروں نے اب منزلوں تک پہنچنے کیلئے پید ل سفر شروع کیا
سرینگر// سرینگر جموں شاہراہ پر منگل کو مسلسل تیسرے روز بھی ٹریفک کی آمد رفت کیلئے بند رہی جس کے نتیجے میں درماندہ مسافروں نے اب منزلوں تک پہنچنے کیلئے پید ل سفر شروع کیا ۔ حکام شاہراہ کی بحالی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام میں مصروف ہے جبکہ دن رات اس کو بحال کرنے کیلئے افراد قوت اور مشینری کو کام پر لگایا گیا ہے ۔ سی این آئی نمائندے پرویز وانی کے مطابق سرینگر جموں شاہراہ پر مسلسل تیسرے روز بھی ٹریفک کی آمد رفت بند رہی ۔ نمائندے کے مطابق اتوار کو بھاری بارشوں کے بیچ رام بن کے مقام پر سرینگر جموں شاہراہ کا کافی حصہ ڈھہہ گیا جس کے بعد میں ٹریفک کی آمد رفت روک دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف مقامات پر بادل پھٹ جانے کے واقعہ نے تباہی مچا دی اور سرینگر جموں شاہراہ کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا ۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کے ساتھ ساتھ دیگر املاک کو بھی کافی نقصان پہنچ گیا ۔ انہوں نے کہا کہ منگل کو مسلسل تیسرے روز بھی کسی بھی قسم کی گاڑی کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ نمائندے کے مطابق شاہراہ بند ہونے کے ساتھ ہی سینکڑوں کی تعداد میں مسافر و مال بردار گاڑیاں مختلف مقامات پر درماندہ ہو گئی ۔اس دوران بارڈر روڑ آرگنائزیشن اور سیول انتظامیہ کی جانب سے شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل بنانے کے سلسلے میں کام جاری ہے ۔ جموں سرینگر شاہراہ کے محکمہ ٹریفک کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ رام بن میں پسیاںگرانے کے باعث شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے بند کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں گاڑیاں پتنی ٹاپ ، بانہال اور جواہر ٹنل کے قریب درماندہ ہو کر رہ گئی ہیں۔ ٹریفک حکام کے مطابق شاہراہ گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل ہو جانے کے بعد کسی بھی نئی گاڑی کو جموں سے سرینگر یا سرینگر سے جموں آنے جانے کی اجازت نہیں ہوگی پہلے درماندہ گاڑیوں کو اپنی اپنی منزلوں تک پہنچنے کی اجازت ہوگی اور اس دورا ن لوگوں سے بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ جموں سے سرینگر یاسرینگر سے جموں آنے جانے کی کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائے ، ٹریفک کنٹرول روم کے ساتھ رابط قائم کرنے کے بعد ہی جموں سرینگر شاہراہ پر سفر کریں۔ حکام کے مطابق شاہرائوں کو قابل آمد رفت بنانے کا کام جاری ہے اور سڑکیں گاڑیوں کی آمدورفت کے قابل ہو جانے کے بعد کسی بھی نئی گاڑی کو شاہراہ پر اس وقت تک چلنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک نہ درماندہ پڑی گاڑیاں اپنی اپنی منزلوں پر پہنچ سکیں۔










