سرینگر جموں شاہراہ بندـ:اشیائے خوردنی اور ضروریا ت زندگی بشمول گیس کی قلت پیدا

سرینگر جموں شاہراہ بندـ:اشیائے خوردنی اور ضروریا ت زندگی بشمول گیس کی قلت پیدا

حالات سے واقف سرکار اسٹاک رکھنے میں ناکام کیوں ؟عوام کا سوال

سرینگر / /سرینگر جموں شاہراہ بند ہونے کے بعد وادی کشمیر میں اشیائے خوردنی اور ضروریا ت زندگی کی قلت پیدا ہوئی جس سے مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آگیاہے ۔جبکہ اشیائے ضروریہ کی قلت سے لوگوں کی معمولات زندگی درہم برہم ہوگئی ہے ۔شہر ودیہات بالخصوص رفیع آباد کے ڈنگی وچھہ سے وابستہ لوگوں نے کشمیر پریس سروس کو فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ شاہراہ بند ہونے کے بعد ضروریات زندگی کی چیزوں کی عدم دستیابی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے لوگوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ قصبہ اور اس مضافاتی علاقوں میں رسوئی گیس کی شدید قلت نے لوگوں کے چولھے بند کردئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے لوگ ایندھن ،لکڑی یابجلی کو بروئے کار لاکرچولھا، ہیٹر وغیرہ کا استعمال کرکے کھانا تیار کرتے تھے لیکن چولھا دانوں کاشہرودیہات میں خاتمہ ہی کردیا گیا ہے جبکہ بجلی فیس میں غیر معمولی اضافہ سے ہیٹر کا استعمال بھی کم ہوا اور تیل خاکی غائب ہونے اسٹو وغیرہ کا نام ونشان ہی نہیں رہا ہے تو اب کھانا پکانے کیلئے صرف اور صرف رسوئی گیس کا استعمال ہی کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گیس کی قلت سے ان کو فاقہ کشی پر مجبور ہونے کا اندیشہ ہے۔انہوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرکار شاہراہ کے حالات اور موسمی حالات سے پہلے ہی اب باخبر رہتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی مارکیٹ میں اسٹاک دستیاب نہیں ہے یا ذخیرہ اندوزوں نے ذخیرہ کرکے لوگوں کو پریشانیوں میں ڈال رکھا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے موجودہ عوامی سرکار اور ایل جی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے اشیائے خوردنی کی قیمتوں کو فوری طور اعتدال پر لایا جائے اور رسوئی گیس سمیت تمام اشیائے ضروریہ کو مہیا کرنے کیلئے ٹھوس اقدام اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کے مشکلات کاازالہ ہوسکے ۔