سرینگر جموں شاہراہ بانہال،رام بن سیکشن میں نمایاں پیش رفت

سرینگر جموں شاہراہ بانہال،رام بن سیکشن میں نمایاں پیش رفت

مشکلات کے باوجود منصوبہ 2026-27تک مکمل کرنے کا ہدف

سرینگر//یو این ایس// حکومت نے قومی شاہراہ 44 کو چار گلیاروں والی سڑک بنانے کے منصوبے میں نمایاں پیش رفت کی اطلاع دی ہے، جس میں خاص طور پر بانہال،رام بن سیکشن پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی اعتبار سے نہایت حساس اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ یہ جانکاری رکن اسمبلی سجاد شاہین کے ایک سوال کے جواب میں ایوان کو دی گئی۔یو این ایس کے مطابق حکومتی بیان کے مطابق،بانہال رام بن سیکشن تقریباً 44 کلومیٹر طویل ہے اور نیشنل ہائی ویز ڈیولپمنٹ پروگرام (این ایچ ڈی پی) مرحلہ دوم کے تحت جاری ہے۔ اس سیکشن کے کچھ حصے، بشمول بنیہال بائی پاس، پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر سرنگوں (ٹَنلز)، وایاڈکٹس اور ڈھلوانوں کو محفوظ بنانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ لینڈ سلائیڈ سے متاثرہ علاقوں میں مسلسل نگرانی، حفاظتی اقدامات اور مٹی کے استحکام کا کام منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق انجام دیا جا رہا ہے۔منصوبے میں سرنگوں کی تعمیر کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ ماروگ اور دِگڈول کے درمیان دوہری سرنگوں پر کام جاری ہے، جہاں جسمانی پیش رفت 21.7 فیصد اور مالی پیش رفت 21.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ان کی تکمیل جون 2027 تک متوقع ہے۔ اسی طرح دِگڈول سے کھونی نالہ تک سرنگوں کا کام 85.5 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور اپریل 2026 تک اس کے مکمل ہونے کی امید ہے۔وایاڈکٹ پیکیج، جو شمالی اور جنوبی سمت میں مختلف کلومیٹر حصوں پر محیط ہے، میں 44 فیصد سے زائد جسمانی اور مالی پیش رفت درج کی گئی ہے اور اس کی تکمیل دسمبر 2026 تک متوقع ہے۔حکومت نے منصوبے میں تاخیر کی وجوہات بتاتے ہوئے خراب موسم، شدید بارشیں، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈز، مشینری اور افرادی قوت کی سست دستیابی اور بعض مقامات پر زمین کی کلیئرنس میں مشکلات کا حوالہ دیا۔ تاہم، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ لینڈ سلائیڈز کی فوری صفائی کے لیے مناسب مشینری تعینات کی گئی ہے اور ٹریفک انتظامیہ کے ساتھ تال میل بنا کر گاڑیوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہقاضی گنڈ،بنیہال اور بنیہال بائی پاس سے اودھم پور تک این ایچ-44 کے دیگر حصوں پر بھی کام تسلی بخش رفتار سے جاری ہے۔ بنیہال بائی پاس دسمبر 2022 میں مکمل کیا جا چکا ہے، جبکہ قاضی گنڈ،بانہال سیکشن میں 8.45 کلومیٹر طویل دوہری سرنگوں پر مشتمل چار رویہ منصوبہ بھی نمایاں حد تک آگے بڑھ چکا ہے۔حکام کے مطابق، منصوبے کی تکمیل سے سفر کا وقت کم ہوگا، رابطہ بہتر بنے گا اور خطے کے ایک دشوار گزار علاقے میں محفوظ اور مؤثر ٹرانسپورٹ راہداری دستیاب ہوگی، جس سے تجارت، سیاحت اور عوامی آمدورفت کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔