سرینگر// تین دونوں سے مسلسل سرینگر جموں شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے مہنگائی نے غریب عوام کی نیندیں حرام کردی ۔اقتصادی اور بدحالی اور روزگار کے وسائل نہ ہونے کے علاوہ شدید سردی میں ضروریات زندگی مہنگے داموں فروخت ہونے سے ادی کے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کا زمینی سطح پر کوئی اثر دیکھائی نہیں دے رہا ہے جس کے نتیجے میں انتظامیہ کی کوششیں بے معنی ہوکر رہ گئی ہیں ۔سی این آئی کے مطابق منافع خوروں ،ذخیرہ اندوزوں ،بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کی کاروائیاں عروج پر اور عوام اپنی بے بسی اور لاچاری کا رونا رو رہے ہیں ،قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کیلئے انتظامیہ سردیوں کے شروع ہونے سے ہی اپنے دعوے اور وعدے کر رہی ہے اور اقدامات اٹھانے کا یقین دلا کر عوام میں اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم عملی اقدامات اٹھانے کیلئے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے بلکہ منافع خوروں ،ذخیرہ اندوزوں ،بلیک مارکیٹنگ کرنے والوں کے خلاف دکھاوے کی کاروائیاں عمل میں لائی جارہی ہیں اور اسطرح قانون کا بھی سرکاری اہلکار ہی مذاق اڑا رہے ہیں ۔کسی بھی منافع خور کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لانے کے حوالے سے اقدامات نہ اٹھانے کی وجہ سے ان منافع خوری کرنے والے اپنی کاروائی آسانی کے انجام دے رہے ہیں ۔اس وقت شہر میں قصابوں نے گوشت کو نابود کردیا ،بوئلر مرغوں کی قیمت آسمان کو چھو رہی ہے ،پنیرکا بھی کوئی حساب ہی نہیں ہے۔ سبزی فروخت کرنے والے اپنی من مانی قیمتوں پر سبزیاں بیچ رہے ہیں ۔وادی میں نمکین چائے ،تیل سئاہ ،ہلدی ،مرچ اور مسالحہ جات کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہے جبکہ آٹا ،دالیں عوام کی قوت خرید سے باہر ہے ۔وادی میں کھانے پینے کی چیزوں اور سبزیوں کا نرغ کبھی بھی ایک ماہ کے لئے اعتدال پر نہیں رہتا ہے بلکہ دن بدن ان میں اضافہ ہونے کی وجہ سے عوام کو مصائب ومشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔مزدور طبقہ گھریلوں صنعتیں چلانے والے اور غریبی کی سطح سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگوں کو مہنگائی نے کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔عوام اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے میں مصائب ومشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ایک طرف دوسری بار سیلاب کا خطرہ دوسری طرف ذخیرہ اندوزوں نے ان کا جینا حرام کردیا ۔










