ہر مصروف موڑ پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں ، گھنٹوں درماندہ
سرینگر//ضلع سرینگر سمیت وادی کے دیگر تمام قصبوں میں ٹریفک جام نے شدت اختیار کر لی ہے اور ہر مصروف سڑک پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق سرکار نے ای بس سروس شروع کرنے کااعلان کیاتھا بڑے شہروں قصبوں میں نائٹ بس سروس بھی چلانے کافیصلہ کیاتھا تاہم زمینی سطح پرلوگوں کو کوئی بھی سہولیت فی الحال دستیاب نہیں ہے ۔وی او آئی نمائندوں نے جواطلاعات فراہم کی ان کے مطابق کشمیر وادی میں ٹریفک جام کوئی نئی بات نہیں ہرسال سرکار دعویٰ کرتی ہے کہ سڑکوں کی کشادگی نئی سڑکیں تعمیرکرنے اور لوگوں کوبہترٹرانسپوٹ سہولیات فراہم کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائے گے۔ سال 2023-24مالی بجٹ میں نئی سڑکیں تعمیرکرنے ان کی کشادگی کے لئے بڑی مقدارمیں رقومات مختص کی گئی تاہم سڑکوںکی کشادگی اور نئی سڑکیں تعمیرکرنے کے سلسلے میںزمینی حقائق سامنے ہے ۔ شہرسرینگرمیں کم سے کم تین لاکھ او رپوری وادی میں پندرہ سے بیس لاکھ کے قریب گاڑیاں موجود ہیں اور سڑکوں کی حالت جوں کی توں بنی ہوئی ہے ۔ٹریفک جام نے سرینگر سمیت دیگر قصبوں میں سنگین رُخ اختیار کیاہے اوراسے نمٹنے کیلئے سرکارنے کئی طرح کے اقدامات عمل میںلانے کے لئے قانون بھی بنایا ہے تاہم اس قانون پرکہیں بھی عمل نہیںہوپارہی ہے۔پارکنگ کی جگہ معقول نہ ہونے کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر گاڑیاں پارک کرتے ہیں جو اکثر ٹریفک جام کا باعث بنتی ہیں۔ جبکہ ٹریفک جام کی سب سے بڑی وجہ سڑکوں کی تنگی ہے۔










