hassn sahoo

سرکار دوعالم ﷺ،اخوت کا بیاں ہوجا

حسن ساہوؔ

ربیع الاوّل کا مبارک مہینہ تمام مہینوں میں سے افضل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس ماہ مبارک میں خاتم النبین، سرکار کائناب رسول اکرمؐ کی ولادت باسعادت ہوئی۔ ایک قلیل مدت میں حضرت محمد مصطفی ؐ نے خداوند تعالیٰ کے پسندیدہ دین اسلام کی ایسی تبلیغ فرمائی کہ اہل عرب وکفر والحاد، فسق وفجور اور دُنیابھر کی بے شمار برائیوں کی انتہا کو پہنچ چکے تھے، حلقۂ بگوش اسلام ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے رواداری،یگانگت اور اتحاد کی ایسی فضاء قائم ہوئی کہ عرب سے عجم تک تمام کلمہ گو انسان رشتۂ وحدت واخوت کی لڑی میں پیوست ہوگئے کہ جغرافیائی، نسلی اور لسانی حدود کی قید ہی ختم ہوگئی۔
بقول حالی مرحوم
عرب میں تھا جو جہل قرنوں سے چھایا
پلٹ دی ہیں اِک آن میں اس کی کایا
اتر کر حراء سے سوئے قوم آیا
اور اِک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا
وہ نسخہ کیمیا خدائے برحق کی مقدس کتاب قرآن کریم ہے، جس کے معجز نمائی نے تمام مسلمانوں کو اتحاد ویکجہتی کو دائمی خوشیوں سے ہم کنار کردیا، برسہا برس سے چلی آرہی عداوت دوشمنی اسلامی اخوت وبربادی میں تبدیل ہوگئی، عرب وعجم پست وبالا اور اعلیٰ وادنیٰ طبقوں سے وابستہ افراد ایک دوسرے کے بھائی اور ہمدرد وغمگسار بن گئے۔ الغرض ایک نئے صالح معاشرے نے وجود پایا۔ خدائے کریم وبرتر نے مسلمانوں کو خاص کر تفرقہ اور نفاق سے بچنے کو کہا ہے۔ کسی بھی طرح کے نفاق کو ظاہر ہونے کی صورت میں اتحاد واتفاق کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنے کا حکم صادر ہوا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن کریم نے واضح کردیا ہے کہ اگر باہمی اتحاد نہ ہو تو سماج بھی پائیدار نہیں ہوسکتا ہے۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری کا سبب ان کی صفوں میں موجود اختلاف وافتراق ہے۔ اس آپسی رسہ کشی اور کدورت نے ایک جانب مسلمانوں کو بے زور بنا کر رکھ دیا ہے اور دوسری جانب اسلام دشمن قوتوں کو ہر طرح سے اُبھرنے کا موقع بھی فراہم کردیا ہے۔
خدارا ذرا غور کریں: جب ہم سب کلمہ گو ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں ۔
جب ہم سب کا دین اسلام ہے۔
جب قرآن کریم ہم سب کی واحد آسمانی کتاب ہے۔
جب کعبہ شریف ہم سب کا قبلہ ہے۔
جب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے عظیم وپیارے آخری پیغمبر ہیں۔
جب پنج وقتہ نماز، رمضان کے روزے زکوٰۃ اور حج بیت اللہ ہم سب کے واجبات میں شامل ہیں۔
جب عید الاضحی وعید الفطر سے متعلق احکامات ہم سب مسلمان بجالاتے ہیں۔
جب61ھ کو میدان کربلا میں اسلام کی بقاء کی خاطر نواسۂ رسول اکرمؐ امام دین ؑکی بے مثال قربانی کا ہم سب کو احساس ہے؟
جب ہمیں جزا،سزا اور روزِ قیامت پر ایک جیسا یقین وایمان ہے۔
تو افسوس صد افسوس اس کے بعد بھی مسلمان مسلک، رنگ ونسل اور ذات ومرتبہ کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء نظر آرہے ہیں۔ یہ صورت حال یقینا ایک المیہ سے کم نہیں ہے۔
قرآن وحدیث میں یہ بات واضح ہے کہ وہ مسلمان خدائے تعالیٰ کے پسندیدہ دین اسلام کا داعی نہیں ہوسکتا جو اُمت کے اتحاد میں رخنہ ڈالے خواہ وہ کسی بھی فرقہ یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو۔ جناب سرورکائناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُمت مسلمہ کو جسدِواحد سے تشبیہ دے کر فرمایا ہے کہ ’’اگر جسم کا ایک عضو تکلیف میں ہو تو دوسرے اعضاء متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے‘‘۔ کیا یہ تکلیف وہ بات نہیں کہ مسلمانانِ عالم کی ایک خاصی تعداد اختلاف وسر پھٹول گوشہ دینے والے مسائل اُبھارنے میں ہی اپنی بڑائی جانتے ہیں اور اخوت وبھائی چارے کو فراموش کرچکے ہیں؟
افسوس جو اُمت پوری دُنیا کیلئے نمونہ عمل بنائی گئی تھی وہ فرقہ بندی اور گردہ بندی کا ہدف بن کر اسلامی اقدار سے کھلواڑ کرنے لگی ہے۔ سچائی تو یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت وختم نبوت پر ایمان رکھنے والا ہر فرد مسلمان ہے، چاہے کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو وہ قابل احترام اور ذی وقار ہے۔ یہ سب جاننے کے بعد بھی جو لوگ ملت کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈال کر انتشار پیدا کرنے کی کوشش میں لگے ہیں وہ یقینا ملت وقوم کے ہی خواہ یا اس کے وفادا ہر گز ہر گز نہیں ہوسکتے بلکہ ایسے افراد درحقیقت اسلام دشمن طاقتوں کے آلہ کار ہواکرتے ہیں اور انہیں سیرت رسول کا بھی پاس ولحاظ نہیں جو قدم قدم پر اتحاد اور یگانگت بڑھاوا دینے والے کو اجر وثواب کی بشارت سناتی ہے۔
اس وقت مسلمانوں کی بداندیشی قوتیں کوشش کررہی ہیں کہ ایک مسلم اُمت کوکئی ملتوں میں تقسیم کردو،فقہی مسلکی اختلافات کو بڑھاوادئے کر اور مسائل کو غلط رنگ میں پیش کرکے فرقہ بندی کیلئے راستہ صاف کردو، ایک فرقہ کو دوسرے فرقے سے کفر کے فتوے دلا کر اِنہیں ایک دوسرے سے برسرپیکارکردو۔ غالباً یہی وجہ ہوسکتی ہے کہ جو یکجہتی واتحاد پہلے مسلمانوں کی صفوں میں موجود تھا اُن کے نشانات اب خال خال ہی نظر آرہے ہیں۔۔ ماننا پڑے گا کہ دُنیا داری کی راہ پر گامزن قیصر وکسری کی سلطنتوں کو مٹانے والے اور روم واسپین کی شہنشایت کو اللہ کی حاکمیت میں لانے والے اب اپنے حقیقی مقام سے غافل ہوکر دُنیاوی لذتوں اور ہنگاموں میں گم ہوگئے ہی۔
شومی قسمت سے مسلمان شخص جاو ومنزلت اور انفرادی جھیلوں میں پھنس کر ایک دوسرے سے دور ہوتے رہے ہیں۔ صاف ہے تسبیح کے دانے کیا بکھرگئے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ملت واحد وکاتصور منتشر ہونے لگا۔ وہ مومن جس کے اندر سارا آفاق گم تھا اپنے کرتوتوں کے باعث آپ آفاق میں گم ہوچکا ہے۔ دُنیاوی طاقتوں کو برتر سمجھ کر اس عظیم ترین قوت سے منحرف ہوچکا ہے جس نے اس پر بھروسہ کرنے والوں کو حق کے بول بالا کے واسطے چٹانوں اور کوہستانی چوٹیوں سے ٹکرانے کا حوصلہ دیا تھا اور جس نے زمین وآسمان کے ایک ایک ذرّے نے دیکھا تھا کہ آن کی آن میں سنگلاخ چٹانیں چور چور ہوگئیں تھیں ۔
سیرت طیبہ کا پیغام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس پر ایمان ہوناچاہئے کہ پیدا کرنے والے خالق کی برتری وعظمت کے سامنے دُنیا کی کوئی طاقت عظیم نہیں۔ ہر بڑی سے بڑی طاقت فنا ہونے والی ہے۔ گویا خدائے برحق کے پسندیدہ دین اسلام کی رکھوالی کرنے کی خاطر ضروری ہے کہ تمام کلمہ گو بلا لحاظ مسلک وفرقہ ایک ہوں اور بہ قلب وذہن نیک ہوں۔ اتحاد واتفاق کی راہ سے وابستہ اسوۂ رسولؐ کو اپنا شعار بنالیں۔ عالم اسلام کو ہرمحاظ پر متحد ہونا ہے تب ہی اسلامی قدروں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا اور ربیع الاول کی مسرتیں اور شادمانیاں پانے کا حق ہمیں حاصل ہوگا۔
سوچنے کی بات یہ ٹھہری کہ آپسی رسہ کشی وانتشار کے باعث مسلمان ہر جگہ پریشانی سے دوچار ہیں اور ہماری آپسی افرا تفری کی وجہ سے اسلام دشمن قوتیں مخفی انداز میں اپنی مسکردہ کاروائیوں کا جال جگہ جگہ بچھارہے ہیں۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی مسلمان زعمائے کرام اور علمائے عظام ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے میں ہی اپنی عافیت جانیں، یہ ملت اسلامیہ کے لئے کس قدر جان لیوا ہے اس کا اظہار لفظوں میں بیاننہیں کیا جاسکتا۔
ربیع الاول کا بابرکت مہینہ عشق رسول اکرمؐ کے توسط سے مسلمانوں کو بلا تمیز مسلک وگردہ تحریک دیتا ہے کہ ہم دینی ودُنیوی امورات میں تنگ نظری اور تعصب سے بالا تر ہوکر ہر سطح پر منظم ومتحد ہوکر اپنے صفوں میں وحدت فکر اور باہمی محبت ومودت پیدا کرکے اخوت کی مشعلیں فروزاں کریں۔
خدائے برحق تمام کلمہ گو اسی نورانی بابرکت مہینے کی برکتوں کے صدقے حضرات کو یکجہتی واتفاق کی رسی تھامے رکھنے کی توفیق عطا کرے۔آمین