سروس رولز کی خلاف ورزی کرنے والوں پر انتظامیہ فوری کارروائی کرے ؍ملازمین یونین صدر
سری نگر //جموں وکشمیر کے سرکاری ملازمین کی طرف سے ریڈیو اور دوردرشن میں جز وقتی نوکری کرنے پر اب ملازمین یونین بھی برہم ہوگئی ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدر محمد رفیق نے نامی نگاروں سے ایک خاص گفتگو میں کہا ۔اگر اس طرح کی شکایتیں ہیں کہ ملازمین سروس رولز کی خلاف ورزی کررہے ہیں تو جموں وکشمیر انتظامیہ کو فوری طور ان ملازمین کے خلاف سخت اقدامات کرنے چاہئیں جو اس طرح کی قانونی کی خلاف ورزی میں ملوث پائے جائیں۔ملازمین یونین کے صدر جو کہ کشمیر ٹیچرس فورم کے چیرمین بھی ہیں نے واضع کیا ،یونین نے ہمیشہ سچائی اور صاف گوئی کو ہی ترجیح دی ہے ۔اور اگر ملازمین اس طرح سے سروس رولز کی خلاف ورزی کررہے ہیں ۔اور اپنی اصل ملازمت میں بے ایمانی کا مظاہرہ کررہے ہیں تو یونین انتظامیہ سے اپیل کررہی ہے کہ ان ملازمین کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ تاکہ ہمارے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء اساتذہ کے عدم موجودگی سے پریشانی کا سامنا نہ کریں۔ کیونکہ ایک ملازم اس بات کی قطعی دلیل پیش نہیں کرسکتا ہے کہ وہ دو دو جگہوں کام کرسکتا ہے ۔کیونکہ اس کی تنخواہ سرکاری محکمہ سے کئی جگہوں پر کام کرکے نہیں نکل سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان ملازمین کو جُز وقتی ملازمت جو ادارے فراہم کررہے ہیں ان کو بھی سمجھنا پڑے گا کہ جموں وکشمیر کے ملازمین کی بھی اپنی ذمہ داری ہے ۔جس کو ادا کرنے کے لئے انہیں اپنے اپنے دفاتر میں ہونا ضروری ہے ۔یونین کے صدر نے کہا کہ جو کوئی سربراہ ان ملازمین کو ریڈیو اور دوردرشن میں جُز وقتی ملازمت کرنے کے لئے NOC فراہم کررہے ہیں انہیں بھی جواب دہ بنانے کی ضرورت ہے ۔تاکہ اس طرح ہم اپنی قوم کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ نہ کرے ۔واضع رہے گذشتہ دنوںکشمیر کے صوبائی انتظامیہ نے سرکاری ملازمین کے بارے میں شکایت حاصل ہونے کے بعد اس بات پر سخت نوٹس لیا تھا کہ بیشتر سرکاری ملازمین جن میں زیادہ تر اساتذہ شامل ہیں، دودرشن اور آل انڈیا ریڈیوسرینگر میںدہائیوں سے اپنی ملازمت کے علاوہ جزوقتی ملازمت بھی انجام دے رہے ہیں۔اور اسکے لئے انہیں نہ صرف باضابطہ تنخواہ بھی اد کی جارہی ہے ۔بلکہ ان کو انکم ٹیکس کے دائرے میں لایا جارہا ہے اور یہ ملازمین اپنی اصل ملازمت کو بالائے طاق رکھ کر ان اداروں میں ہی اپنی کیجول ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔اس بارے میں انتظامیہ نے اگر چہ سخت نوٹس لیا تھا اور چنداقدامات کرتے ہوئے ڈویژنل انتظامیہ نے ان تمام محکموں سے تفصیلات طلب کی تھیں جن محکموں سے وابستہ ملازمین جزوقتی نوکری انجام دے رہے ہیں۔اس کے فوری بعد ڈائریکٹر جنرل اکاونٹس اینڈ ٹریجریز نے بھی ایک ایڈوائرزی جاری کرتے ہوئے تمام محکموں کے سربراہوں سے کہا تھا کہ اگر کوئی ملازم اس طرح سے دوردرشن اور آل انڈیا ریڈیومیں بطور کیجول ملازمت میں ملوث پایا گیا ۔تو اسکے خلاف کارروائی کی جائے۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ کہ سرکاری ملازم کوہر اپنے سروس رولز کا پابند ہونا چاہئے اور اگر کسی ملازم کو سروس رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا تو اسکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔اس حکم کے بعد ایک اور بار انتظامیہ نے ان ملازمین کو سروس رولز کا پابند ہونے کی وارننگ بھی جاری کی تھی۔لیکن ملازمین جو دہائیوں سے سروس رولز کو بالائے طاق رکھے ہوئے ہیں نے ایک بار پھر سے انتطامیہ کے حکم کی عدولی کرتے ہوئے اپنی من مانی جاری رکھکر باضابطہ اپنی جُز وقتی نوکری جاری رکھے ہوئے ہیں۔اور اس میں المیہ یہ ہے کہ آل انڈ یا ریڈیو اور دودرشن کے اعلیٰ حکام بھی ان ملازمین کی پیروی کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔










