حکومت کو احتیاط اور سوچ بچار سے کام لینے کی ضرورت: غلام حسن میر
سری نگر//سابق کابینہ وزیر اور اپنی پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے سرکاری سکولوں، جن میں طلبا اور اساتذہ کا تناسب متوازن نہیں ہے، کو ایک دوسرے میں ضم کرنے کا اقدام احتیاط سے کرنا چاہئے۔ کشمیر نیوز سروس کے مطابق اْنہوں نے کہا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں طلبا، بالخصوص پرائمری سکولوں میں زیر تعلیم طلبا کو مشکلات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اْنہوں نے حکومت کو تلقین کی ہے کہ وہ سرکاری سکولوں کے انضمام سے متعلق منصوبے کو بہت احتیاط کے ساتھ نافذ کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ یہ بات یقینی بنائے کہ پرائمری کلاسوں میں زیر تعلیم بچوں کو اْن کے گھروں کے قریب ہی سکولوں کی سہولیات میسر ہوں۔ کسی سکول کو ایک دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع دوسرے سکول میں ضم کرنے کے نتیجے میں کمسن بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لئے حکومت کو یہ پروگرام نافذ کرتے وقت ہر سکول کے بارے میں سوچ بچار سے کام لینا چاہیے۔ حکومت کے منصوبے کے مطابق جن پرائمری سکولوں میں طلبا کی تعداد 15سے کم ، جن مڈل سکولوں میں طلبا کی تعداد 30 سے کم اور جن ہائی سکولوں میں طلبا کی تعداد 30 سے کم ہو، کو ایک دوسرے میں ضم کردیا جائے گا۔ اس کا مقصد تمام سکولوں میں طلبا اور استاتذہ کے تناسب میں اعتدال پیدا کرنا ہے، جو بظاہر ایک درست اقدام ہے۔ لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ سکولوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کئے جانے سے کچھ بچے بد دل نہ ہوں اور وہ تعلیم کو خیرا?باد ہی کہہ دیں۔ اس لئے کم از کم پرائمری سکولوں کو منتقل کرنے سے پہلے سوچ بچار کیا جانا ضروری ہے۔ غلام حسن میر نے مزید کہا ہے کہ جن مڈل سکولز کو منتقل کرنا مطلوب ہو، ان میں کم از کم پرائمری سکولوں کو قائم رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایسی کئی شکایات مل رہی ہیں، جن کے مطابق سارے زونل ایجوکیشن افسران نے دور دراز علاقوں میں واقع سکولوں میں عملے اور بچوں کی تعداد کے بارے میں درست رپورٹس نہیں دی ہیں۔ اس لئے حکومت کو دوبارہ جانچ کرنی چاہیے تاکہ سکولوں کے انضمام کے منصوبے کے غیر سود مند نتائج برآمد نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت یہ بتانے سے قاصر نظر آرہی ہے کہ انضمام منصوبے کے تحت کس فاصلے تک ایک سکول کو منتقل کیا جائے گا۔ کسی سکول کو دوسرے سکول میں ضم کرنے سے فاصلہ اتنا بھی نہیں بڑھنا چاہیے کہ طلبا کو سکول آنے جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے










