water and electricity power

سردیوں کا موسم شروع ہونے سے قبل ہی پینے کے پانی کی قلت اور بجلی کی آنکھ مچولی

سرینگر//موسم سرما سے قبل ہی وادی کے مختلف علاقوں میں پینے کی صاف پانی اور بجلی کی آنکھ مچولی نے سنگین رخ اختیار کیا ہے ناصاف پانی استعمال کرنے کے باعث کئی علاقوںمیں بیماریاں پھوٹ پڑی ہیں اور کئی دیہی علاقوں میں بچوں کو پر اسرار بیماری نے اپنی لپٹ میں لے لیا ہے ۔موسم سرما کی آمد سے قبل ہی وادی کشمیر میں پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی اور بجلی کی آنکھ مچولی سے وادی کے اطراف وا کناف میں لوگوں کوکافی پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ابھی سردیوںکا موسم شروع ہی نہیںہوا ہے کہ پوری وادی میں پانی کی ہا ہا کار مچی ہوئی ہے ایک اندازے کے مطابق 90کے قریب چھوٹی بڑی واٹر سپلائی اسکیموں نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے جس کے نتیجے میں وادی کے 225علاقوںمیں پینے کے پانی کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور ان علاقوں کے لوگ ندی نالوں کا ناصاف پانی استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ، ناصاف پانی استعمال کرنے کے باعث کئی دیہی علاقوںمیں بچوں کو پر اسرار بیماری نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کئی کمسن بچوں کو بخار ، پیٹ درد اور کھانسی میں مبتلا ہو گئے ہیں ۔ ماہر ڈاکٹروں کے مطابق اس طرح کی بیماریاں ناصاف پانی استعمال کرنے کے باعث پھوٹ پڑتی ہیں وادی کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ واٹر سپلائی اسکیمیں بیکار ہو چکی ہیں اور وہ مجبوراً ندی نالوں کا ناصاف پانی ااستعمال کر رہے ہیں اگر چہ پی ایچ ای محکمہ کو بار بار اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ جب تک واٹر سپلائی کی اسکیموں کی مرمت کی جائے تب تک ان علاقوںمیں لوگوں کو ٹینکروں کے ذریعے پینے کا پانی فراہم کیا جائے تاہم متعلقہ محکمہ نے اس ضمن میں کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی اور اس کی سزا سینکڑوں لوگوں کو بھگتنے پر مجبور ہوناپڑ رہا ہے۔ ادھر وادی کے بیشتر علاقوں میں بجلی کا یہی حال ہے ۔وادی کے دور افتاد علاقوں میں بجلی کی آنکھ مچولی سے صارفین میں محکمہ بجلی کے خلاف کافی تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے جبکہ شام کے اوقا ت بیشتر علاقوں میں بجلی غائب رہنے کے باعث لوگ محکمہ بجلی کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں ۔