پاکستان کے ساتھ لگنی والی سرحدوں پر ڈرون کی بڑھتی سرگرمیوں میں اضافہ

سرحدوں پر ڈرون کی بڑھتی سرگرمیاں ہمارے لئے خطرہ نہیں بلکہ ایک چیلنج

فضائیہ میں نئے نظام کی ضرورت ،24 گھنٹے چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا / فضایہ سربراہ

سرینگر // سرحدوں پر ڈرون کی بڑھتی سرگرمیوں کو خطرہ نہیں بلکہ چیلنج قرار دیتے ہوئے فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل وی آر چودھری نے کہا کہ فضائیہ کی صلاحیتوں کو بڑھانے کیلئے 100 سے زائد لڑاکا طیاروں شامل کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ خطرے کے مطابق صلاحیتیں تیار کی جائیں۔ اگر کہیں سے بھی کوئی خطرہ ظاہر ہوتا ہے تو پہلا اور مہلک جواب دیا جاتا ہے۔سی این آئی کے مطابق جیسلمیر میں منعقد ہونے والے ’’وایو شکتی 2024‘‘ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل وی آر چودھری نے میں فضائیہ کی صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فضائی طاقت میں 100 سے زائد لڑاکا طیاروں کی طاقت نظر آئے گی۔ انہوں نے کہا ’’ فضائی طاقت کے ذریعے فضائیہ اپنی جنگی تیاریوں کو چیک کرتی ہے اور ہر قسم کے ہتھیاروں کو بھی چیک کیا جاتا ہے۔ وایوشکتی اپنے آپ میں ایک طاقتور اور کامیاب فضائیہ ہے۔ یہ مختلف مقامات پر بم گرانے کی صلاحیت رکھتی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ فضائیہ کو ہمیشہ تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ فضائیہ میں نئے نظام کی ضرورت ہے۔ فضائیہ کو 24 گھنٹے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔ فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل نے کہا کہ کسی بھی تنازع میں کوئی مدد نہیں کرے گا، اس لیے صرف اپنے ہتھیاروں پر انحصار کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ لڑاکا طیارے ہوں یا ہیلی کاپٹر یا ٹرانسپورٹ طیارے یا ریڈار، ہمیں دیسی نظاموں پر یقین ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ خطرے کے مطابق صلاحیتیں تیار کی جائیں۔ اگر کہیں سے بھی کوئی خطرہ ظاہر ہوتا ہے تو پہلا اور مہلک جواب دیا جاتا ہے۔ ہم نے چار سالوں میں مشرقی لداخ میں بہت سے سبق سیکھے، اس دوران ہمیں فوج اور آئی ٹی بی پی سے مدد ملی۔ فضائیہ نے تربیت میں تبدیلی کی اور اس کے مطابق مردوں اور مشینوں کو ڈھال لیا۔ائیر چیف مارشل نے کہا کہ جب بھی کوئی خطرہ آتا ہے تو فضائیہ فوری رد عمل ظاہر کرتی ہے۔ ہم ہمیشہ سبق لیتے ہیں اور انہیں اپنی تربیت میں شامل کرتے ہیں۔ کسی بھی صورت میں رد عمل کا وقت کم ہے۔ بالاکوٹ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بالاکوٹ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ حالات کو بڑھائے بغیر فضائی طاقت کیسے استعمال کی جا سکتی ہے۔ ایئر فورس ایک ٹیکنالوجی بیس سروس ہے۔ خواتین نے ہمیشہ مردوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا ہے۔توقع ہے کہ مزید خواتین بھی فضائیہ میں شامل ہوں گی۔ ایئر چیف مارشل نے کہا کہ چیلنج بڑا ہے اس لیے ہمیں ٹیکنالوجی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ ہمیں اس سے آگے رہنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈرون ہمارے لیے خطرہ نہیں بلکہ چیلنج ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ فضائیہ ہندوستان کی سالمیت اور اتحاد کے لئے پرعزم ہے۔