بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کے قتل میں ملوث ملزمان میں سے 2 شوٹرز امرتسر کے قریب پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہوگئے۔بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ملزمان کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے کے دوران 3 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔حکام نے بتایا کہ پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ مسلسل 4 گھنٹے جاری رہا، مقابلے کے دوران گینگسٹر من پریت سنگھ عرف منو کسا اور جگروپ سنگھ عرف روپا ہلاک ہوئے۔فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک نیوز چینل کا کیمرا مین بھی دائیں ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوگیا۔امرتسر سے 20 کلومیٹر دور بھکنا گاؤں میں ہونے والے اس پولیس مقابلے کے اختتام تک اسٹیٹ پولیس چیف گورو یادو بھی جائے وقوع پر پہنچ گئے۔پنجاب پولیس کی اینٹی گینگسٹر ٹاسک فورس کے سربراہ اے ڈی جی پی پرمود بان نے جائے وقوع پر صحافیوں کو بتایا کہ ’ملزمان کے قبضے سے ایک اے کے 47 رائفل، ایک پستول اور بڑی تعداد میں گولیاں برآمد ہوئی ہیں‘۔یہ دونوں ملزمان کیس میں ملوث ان 3 شوٹرز میں شامل تھے جو تاحال فرار تھے تاہم ان دونوں کا سراغ لگا لیا گیا جبکہ تیسرا ملزم تاحال فرار ہے، ان کے علاوہ دیگر کم از کم 8 شوٹرز تھے جو گرفتار کیے جا چکے ہیں۔پولیس کی جانب سے جگروپ سنگھ (روپا) کو مردہ قرار دینے سے چند لمحے قبل ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی تھی، علاقے کو گھیرے میں لے کر وہاں رہائش پذیر لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کے اندر رہنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے۔یاد رہے کہ بھارت میں پنجابی میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار اور مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما سدھو موسے والا کو 29 مئی کو بھارتی پنجاب میں ان کے گاؤں کے قریب قتل کردیا گیا تھا۔ملزمان نے موسیقار پر کم از کم 30 گولیاں فائر کیں، انہیں تشویشناک حالت میں مانسا کے سول ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ منو کسا نے سدھو موسے والا پر پہلی گولی اے کے 47 رائفل سے چلائی تھی۔ان کے قتل کا واقعہ پنجاب پولیس کی جانب سے سدھو موسے والا سمیت 420 سے زائد افراد کی سیکیورٹی واپس لینے کے حکم کے ایک روز بعد سامنے آیا تھا۔سدھو موسے والا کے قتل کی ذمہ داری کینیڈین نژاد بھارتی دہشت گرد گولڈی برار نے قبول کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ ان کے گینگ نے ہی سدھو موسے والا کو قتل کیا۔’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق گولڈی برار خطرناک دہشت گرد لارنس بشنوئی کے گینگ کا کارندہ ہے اور دونوں گینگ کے سربراہ ہیں۔لارنس بشنوئی اس وقت بھارت کی بدنام جیل ’تہاڑ‘ میں سخت سیکیورٹی میں قید ہے، تاہم ان کے بشنوئی گینگ نے سدھو موسے والا کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔گینگ کے مطابق سدھو موسے والا نے ان کے کارندے کو ہلاک کروانے میں کردار ادا کیا تھا، جس وجہ سے انہوں نے بدلے کے طور پر گلوکار کو قتل کیا۔بعدازاں انٹرپول نے پنجاب کے فرید کوٹ میں درج دیگر 2 مقدمات کے سلسلے میں گولڈی برار کا سراغ لگانے کے لیے ریڈ کارنر نوٹس جاری کیا۔










