سکاسٹ کشمیر میں سٹیک ہولڈرز میٹ میں چار نئے سٹا رٹ اَپس کا آغازکیا
سری نگر// وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و اَمورِ صارفین، اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، سائنس و ٹیکنالوجی اور ٹرانسپورٹ ستیش شرما نے جموں و کشمیر کے زرعی شعبے کو جدید سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کے ذریعے تبدیل کرنے کے لئے حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔وزیر موصوف اِن باتوں کا اِظہار کشمیر میں سائنس، ٹیکنالوجی اور اِنوویشن( ایس ٹی آئی) کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی سٹیک ہولڈرز میٹ میںکیا جس کا اِنعقادپی آئی۔آر اے ایچ آئی، ناردرن ریجن ایس اینڈ ٹی کلسٹر نے جموں و کشمیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کونسل اور شیرکشمیر یونیورسٹی آف ایگری کلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر کے اِشتراک سے کیا۔تقریب میں وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر ڈاکٹر نذیر احمد گنائی، سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری،پی آئی۔ آر اے ایچ آئی کی مشیر جتندر کور اروڑہ، ایڈیشنل ڈائریکٹرجے کے ایس ٹی آئی سی ڈاکٹر ناصر شاہ، سینئر سائنسدانوں، ترقی پسند کسانوں، سکالروں اور محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کے اَفسران نے شرکت کی۔ستیش شرما نے شیرکشمیر شیخ عبداللہ کی بصیرت اَفروز اِصلاحات کا ذکر کیا جنہوں نے تاریخی زمین کسان کو دینے والا قانون نافذ کیا تھا۔ اُنہوں نے زور دیا کہ موجودہ توجہ سمارٹ ٹیکنالوجیز اور زراعت میں جدید سائنسی مداخلتوں کے ذریعے اِسی طرح کی تبدیلی لانے پر مرکوز ہے۔آج کے دور میں بھی ایسی ہی تبدیلی جدید سمارٹ ٹیکنالوجیز اور سائنسی مداخلت کے ذریعے لانے پر توجہ ہے۔ اُنہوں نے کہا،’’آج کی توجہ کشمیر میں ایک متحرک سائنس، ٹیکنالوجی اوراِنوویشن ایکو سسٹم بنانے پر ہے ۔ہمارے کسانوں کو نہ صرف حکومتی اِمداد سے مستفید ہونا چاہیے بلکہ تکنیکی ترقی میں فعال حصہ دار ہونا چاہیے۔‘‘
وزیر موصوف نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت کے زرعی اِنقلابی منصوبے کے کئی اہم ستونوں کا خاکہ پیش کیا، جن میں سمارٹ فارمنگ سلوشنز،بائیو ٹیکنالوجی اِنٹرونشنز،پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ اور ویلیو ایڈیشن ، زراعت میں قابلِ تجدید توانائی کا استعمال، ای ۔کامرس اور کسانوں کے لئے براہِ راست مارکیٹ تک رسائی، سکل ڈیولپمنٹ ،ترقی اور سرمایہ کاری شامل ہیں۔ستیش شرما نے سکاسٹ کشمیر کے نوجوان اِختراع کار کی جانب سے تیار کردہ چار نئے سٹارٹ اپس کا افتتاح بھی کیا جو زراعت پر مبنی نوجوان قیادت کی حوصلہ افزائی کا مظہر ہے۔ اُنہوں نے کشمیری نوجوانوں کی اختراعی سوچ کی ستائش کی اور ایک سازگار تحقیقی ماحول کی اہمیت پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس ایسے ذہن ہیں جو کمال کر سکتے ہیں، انہیں صرف مناسب ماحول درکار ہے جیسے بیج کو کھلنے کے لئے دھوپ اور پانی چاہیے ہوتا ہے۔‘‘اِس موقعہ پر وائس چانسلر سکاسٹ کشمیر ڈاکٹر نذیر احمد گنائی نے یونیورسٹی کی زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ اَقدامات نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے، پیداوار بڑھانے اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے حکومت اور تعلیمی اداروں کے درمیان خلا کو پُر کرنے کی ضرورت پر زور دیاتاکہ نوجوان محققین اَپنی اختراعات کو عملی جامہ پہنا سکیں۔ اُنہوں نے نوجوان اختراع کاروں کی مالی معاونت کے لئے ادارہ جاتی وظائف دینے کی تجویز پیش کی۔اِس سے قبل وزیر موصوف نے سکاسٹ کشمیر کیمپس کا دورہ کیا اور طلبأ اور اِختراع کاروں سے بات چیت کی ۔










