جموں//وزیر برائے خوراک، شہری رسدات و امورِ صارفین، اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹرانسپورٹ، امورِ نوجوان و کھیل کودمحکمہ جات ستیش شرما نے آج جموں یونیورسٹی میں منعقدہ قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جامع قومی تعمیر، منشیات کے خلاف سخت جدوجہد اور ریاستی درجہ کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔یہ دو روزہ کانفرنس 12 تا 13 ؍فروری 2026 ء جموںیونیورسٹی کے شعبہ زولوجی کے زیرِ اہتمام شعبے کے سمینار ہال میں منعقد کی جا رہی ہے۔کانفرنس کو جے کے سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشنز کونسل (جے کے ایس ٹی آئی سی )، محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی حکومت جموں و کشمیر(یوٹی) اور راشٹریہ اُچتر شکھشا ابھیان (آر یو ایس ے) کا تعاون حاصل ہے۔کانفرنس میں سابق وائس چانسلر جموں یونیورسٹی اور ڈائریکٹر اکیڈمی آف سائنٹفک اینڈ انوویٹیو ریسرچ (اے سی ایس آئی آر) غازی آبادپروفیسر منوج کمار دھر، پروفیسر ایمریٹس اے سی ایس آئی آر اورسی ایس آئی آر لکھنؤ راکیش پانڈے، شعبہ کی سربراہ پروفیسر سیما لنگر، ماہرین تعلیم، محققین اورطلبأ نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر وزیر موصوف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اِختراعی،دیرپائی اور اِجتماعی ترقی سے ایک انقلابی دور میں داخل ہو رہا ہے۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ قو می تعمیر کی بنیاد شمولیت پر ہونی چاہیے تاکہ معاشرے کے تمام طبقات کو مساوی مواقع اور ترقی میسر ہو۔اُنہوں نے کہا،’’نیا دور ہندوستان کا ہے۔ ہمیں جامع ترقی، سماجی ذِمہ داری اور دیرپا ترقی کے لئے مشترکہ عزم کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔‘‘ستیش شرما نے کانفرنس کے موضوع کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہمالیائی ماحولیاتی نظام موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور اُبھرتے ہوئے عوامی صحت کے چیلنجوں سے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے ۔ اُنہوں نے دیرپامستقبل کے لئے تحفظی اقدامات کو موسمیاتی لچک اور عوامی صحت کی حکمت عملیوں کے ساتھ مربوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے ماحولیاتی اور سماجی چیلنجوںسے نمٹنے کے لئے ٹیکنالوجی پر مبنی حل کی اہمیت پر بھی زور دیا جن میں آرٹیفیشل اِنٹلی جنس( اے آئی) سے چلنے والی نگرانی، ڈیٹا پر مبنی ماحولیاتی نظام کا اِنتظام اور تحقیق و اِختراع کے ذریعے نوجوانوں کی شمولیت شامل ہیں۔وزیر موصوف نے منشیات کے بڑھتے ہوئے رُجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منشیات کے خلاف مضبوط اور مسلسل مہم کے عزم کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے منشیات کی لت کو ایک سنگین سماجی اور عوامی صحت کا مسئلہ قرار دیا جو نوجوانوں، کنبوں اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے لئے خطرہ ہے۔اُنہوں نے کہا،’’منشیات کے خلاف جنگ اِجتماعی ذِمہ داری ہے۔ہمیں اَپنی نوجوان نسل کی حفاظت کے لئے مل کر کام کرنا ہوگا اور بیداری، روکتھام، بحالی، اور سخت نفاذ کے ذریعے ایک صحت مند معاشرہ تعمیر کرنا ہوگا۔‘‘وزیر ستیش شرما نے جموں و کشمیر کے لوگوں کی اُمنگوں کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی ایک جائز جمہوری توقع ہے۔ اُنہوں نے اِس کی بحالی کے لئے تعمیری اور آئینی اَقدامات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ حکمرانی اور عوامی شمولیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اُنہوں نے کہا،’’رِیاستی درجہ ہمارا حق ہے اور اِس کی بحالی کی جانب بامعنی اَقدامات سے جمہوری اداروں کو تقویت ملے گی اور لوگوں کو بااِختیار بنایا جائے گا۔‘‘وزیر موصوف نے کانفرنس کے اِنعقاد پر جموںیونیورسٹی کی ستائش کی اور وائس چانسلر پروفیسر امیش رائے ، کنوینر پروفیسر سیما لنگر، کو۔کنوینر پروفیسر پنکج کمار، آرگنائزنگ سیکرٹری ڈاکٹر آرتی ڈوگرہ اور کو۔ آرگنائزنگ سیکرٹری ڈاکٹر پرویندر کمار کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے سائنس دانوں، ماہرین تعلیم اور محققین کو اہم ماحولیاتی اور عوامی صحت کے مسائل پر غور و خوض کے لئے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔اُنہوںنے محققین اور نوجوان سکالروں پر زور دیا کہ وہ رہائش گاہوں کے نقصان، موسمیاتی لچک اور منشیات جیسے سماجی مسائل سمیت اہم چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے سائنسی اِختراعات اور ٹیکنالوجی کا بھرپور اِستعمال کریں۔وزیر نے اُمید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس قابلِ عمل تجاویز اور باہمی تعاون پر مبنی حل پیش کرے گی جو دیرپاترقی، ایکو ٹورازم کے فروغ اور جموں و کشمیر کے قدرتی ورثے کے تحفظ میں معاون ثابت ہوں گی۔ اُنہوں نے مزید کہا،’’مشترکہ مقصد اور اجتماعی عزم کے ساتھ ہم ایک مضبوط جموں و کشمیر تعمیر کر سکتے ہیں اور ایک مضبوط ہندوستان کے لئے بہترین کردار اَدا کرسکتے ہیں۔‘‘










