کپواڑہ//وزیر برائے خوراک ، شہری رسدات و اَمورِ صارفین ،ٹرانسپورٹ،اَمورِ نوجوان و کھیل کود ، آئی ٹی ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ستیش شرما نے حکومت کے عوامی رَسائی پروگرام کے تسلسل میں آج وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی کے ہمراہ ضلع اِنتظامی کمپلیکس کپواڑہ میں ایک تفصیلی جائزہ میٹنگ منعقد کی جس میں مختلف محکموں کی پیش رفت اور کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ میٹنگ میں رُکن قانون ساز اسمبلی کپواڑہ میر محمد فیاض، ممبر اسمبلی کرناہ جاوید احمد مرچال، رُکن اسمبلی لنگیٹ خورشید احمد شیخ،ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ شری کانت سوسے، اے ڈِی سی ہندواڑہ جاوید نسیم مسعودی، آر ٹی او کشمیر قاضی عرفان، جوائنٹ ڈائریکٹر خوراک ، شہری رسدات و اَمورصارفین شاہینہ خان، جوائنٹ ڈائریکٹراَمورِ نوجوان و کھیل کود اور چیف پلاننگ آفیسر پرویز لون اور دیگر متعلقہ ضلعی اَفسران نے شرکت کی۔محکمہ خوراک ، شہری رسدات و اَمورِ صارفین کا جائزہ لیتے ہوئے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایف سی ایس اینڈ سی اے کپواڑہ نے وزیر کو بتایا کہ ضلع میں این ایف ایس اے این ۔ این ایف ایس اے زُمروں کے تحت مجموعی طور پر 6,67,755 مستفیدین رجسٹرڈ ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ بومہامہ میں واقع مرکزی ڈیپو میں اس وقت 267.81 میٹرک ٹن چاول موجود ہیں۔ ضلع میں 496 سیل سینٹرز/فیئر پرائس شاپس قائم ہیں۔ کرناہ، مژھل ، کیرن، بڈنمل، جمگنڈ اور کمکڈی سمیت سرحدی اور برف باری سے متاثرہ علاقوں میں چاول، آٹا اور چینی کے وافر ذخائر پہلے ہی پہنچا دئیے گئے ہیں، جنہیں 170 مراکز کے ذریعے فراہم کیا جا رہا ہے۔وزیر خوراک نے بالخصوص برف پوش اور دُور دراز علاقوں میں ضروری اشیائے خورد نوش کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے پر زور دیا تاکہ سخت موسمی حالات میںلوگوںکو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔اے ٹی او کپواڑہ نے ٹرانسپورٹ محکمہ کے جائزے کے دوران ضلع میں چلنے والی مسافر بسوں، ٹرکوں اور ٹیکسیوں کی تعداد سے وزیر کو آگاہ کیا۔ بتایا گیا کہ جاری مالی برس 2025-26 کے دوران فیس، ٹیکس، فٹنس اور مسافر ٹیکس کے ذریعے 15.91 کروڑ روپے وصول کئے گئے ہیں۔ اِس کے علاوہ رواں برس کے دوران روڈ ایکسیڈنٹ وکٹم فنڈ کے تحت 5 لاکھ روپے تقسیم کئے گئے ہیں۔وزیر ٹرانسپورٹ نے عوامی نمائندوں کے مطالبے پر اعلان کیا کہ ضلع کی تمام اسمبلی حلقوں کو سرکاری بسیں فراہم کی جائیں گی تاکہ عوام کے روزانہ سفر میں آسانی ہو۔میٹنگ میں سرکاری عمارتوں کی سولرائزیشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ اَب تک 398 عمارتوں کو سولرائز کیا جا چکا ہے اور 17 عمارتوں میں سمارٹ میٹر نصب کئے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ مالی برس 2024-25 کے دوران 2,798 سولر سٹریٹ لائٹس نصب کی گئیں جبکہ موجودہ مالی برس میں مزید 344 لائٹس نصب کرنے کی تجویز ہے۔ ضلع میں 13 سولر ایگر ی کلچر پمپ الاٹ کئے گئے ہیں جن میں سے 10 پہلے ہی لگائے جا چکے ہیں۔ وزیرموصوف نے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ ضلع کے تمام درگاہوںاور سٹیڈیموں میں بھی سولر لائٹس نصب کی جائیں۔ اِس دوران ضلع کے تمام 6 حلقوں کو موقعہ پر ہی مختلف سولر لائٹس جاری کی گئیں۔وزیر ستیش شرما نے ہائیڈرو پاور پروجیکٹوں کے حوالے سے متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ ان منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ ضلع میں بجلی کی صورتحال بہتر ہو سکے۔وزیر موصوف نے منصوبہ بندی کے عمل پر بات کرتے ہوئے تمام اَفسران کو ہدایت دی کہ مختلف ترقیاتی کاموں کے لئے منصوبے تیار کرتے وقت متعلقہ اراکین اسمبلی کے ساتھ مکمل تال میل یقینی بنایا جائے۔ اُنہوں نے عوام دوست اور علاقہ جاتی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی کو سراہا جس سے عوامی فلاح و بہبود کو فروغ ملے گا۔وزیر کھیل کود نے ضلع میں اَمورِ نوجوان و کھیل کودمحکمہ کی سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا۔اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے افسران پر زور دیا کہ وہ سرکاری سکیموں اور اقدامات کی تیاری و عمل آوری کے دوران منتخب عوامی نمائندوں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی سے کام کریں تاکہ ترقیاتی اقدامات مؤثر انداز میں نافذ ہو سکیں۔اِس سے قبل چیف پلاننگ آفیسر کپواڑہ پرویز احمد لون نے میٹنگ کے سامنے ضلع کپواڑہ کا تفصیلی پروفائل پیش کیا۔بعد میں وزیرموصوف اور وزیر اعلیٰ کے مشیر نے ضلع کی تمام اسمبلی حلقوں میں سولر لائٹس تقسیم کیں۔ بعد ازاں، وزیر نے وزیر اعلیٰ کے مشیر کے ہمراہ ایک فیلڈ وِزٹ کیا جس دوران اُنہوں نے ہائیر سیکنڈری سکول کپواڑہ کے کھیل میدان اور سپورٹس سٹیڈیم گلیزو کا معائینہ کیا۔ اِس موقعہ پر رُکن قانون ساز اسمبلی کپوارہ بھی موجود تھے۔ وزیرستیش شرما نے افسران کو ہدایت دی کہ ان دونوں مقامات پر جدید طرز کی سپورٹس سہولیات کی تعمیر کے لئے جامع ڈِی پی آر تیار کی جائے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر بھر میں معیاری کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کے لئے پُر عزم ہے تاکہ نوجوان اَپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور اُجاگر کرنے کے لئے مناسب سہولیات حاصل کر سکیں۔بعد میں وزیر موصوف نے مختلف وفود سے ملاقات کی اور افسران کو ہدایت دی کہ تمام جائز عوامی شکایات کا بروقت اور مقررہ مدت میں ازالہ یقینی بنایا جائے۔










