کھیلوں کے مرکزی وزیر کو جامع میمورنڈم پیش کیا
نئی دہلی //وزیر برائے خوراک ، سول سپلائیز اینڈ کنزیومر افئیرز ( ایف سی ایس اینڈ سی اے ) ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس اور ٹرانسپورٹ مسٹر ستیش شرما نے جموں و کشمیر کو کھیلوں کا قومی مرکز بنانے کی جانب ایک بڑا قدم اٹھایا ۔ انہوں نے مرکزی وزیر برائے یوتھ افئیرز اینڈ سپورٹس ڈاکٹر منسکھ منداویہ سے ملاقات کے دوران کھیلوں کی اپ گریڈیشن سے متعلق متعدد مسائل اور اقدامات پیش کئے ۔ وزیر موصوف نے ایک جامع میمورنڈم پیش کیا جس میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی اپ گریڈیشن ، نوجوانوں کی شرکت کو فروغ دینے ، روز گار پیدا کرنے اور جموں و کشمیر کو کھیلوں کی سیاحت اور ہائی پرفارمنس ٹریننگ کیلئے ایک اعلیٰ مقام بنانے کا ایک عظیم الشان ، کثیر الشعبہ روڈ میپ بیان کیا گیا ہے ۔ جموں و کشمیر کے عوام کے شوق کرکٹ کو اجاگر کرتے ہوئے مسٹر ستیش شرما نے سرینگر اور جموں میں بین الاقوامی معیار کے کرکٹ اسٹیڈیمز کی منظوری کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے طویل عرصے سے خطہ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کی میز بانی سے محروم ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اسٹیڈیمز نہ صرف یونین ٹیر ٹیری میں اعلیٰ سطح کے کرکٹ کو بحال کریں گے بلکہ سیاحت کو فروغ دیں گے اور نئی نسل کے کھلاڑیوں کو دعوت دیں گے ۔ وزیر نے مزید بارڈر سپورٹس ڈیولپمنٹ سرکٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی جو کٹھوعہ ۔ سانبہ ، اکھنور ۔ چھمب ، پونچھ ۔ نوشہرہ ۔ راجوری ، اوڑی ۔ بارہمولہ ۔ کپواڑہ اور کرناہ ۔ گریز تک پھیلا ہوا ہو ۔ اس کا مقصد سرحدی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے نوجوانوں کے کھیلوں کے ہنر کو بروئے کار لانا ہے ۔ انہوں نے سرحدی پنچائتوں اور دنگل اکھاڑوں ، سائیکلنگ ٹریکس ، ہاکی اور فُٹ بال گراؤنڈز کی ترقی کیلئے خصوصی گرانٹس کا مطالبہ کیا ۔ اس کے علاوہ تمام سرحدی پنچائتوں میں کھیلوں کا سامان فراہم کرنے کی درخواست بھی کی تا کہ گراس روٹس کھیلوں اور نوجوانوں کی شرکت کو مضبوط بنایا جا سکے ۔ مسٹر ستیش شرما نے کھیلوں کے ذریعے روز گار کو فروغ دینے کیلئے پانچ برسوں میں 10 بارڈر اسپورٹس اینڈ ایمپلائمنٹ ہبز ( بی ایس ۔ ای ایچ ) قائم کرنے کیلئے 600 کروڑ روپے کی مالی امداد کی درخواست کی ۔ انہوں نے بارڈر یوتھ اسپورٹس اپرنٹس شپ پروگرام کی بھی تجویز پیش کی جس کا بجٹ 300 کروڑ روپے ہے ، کوچز اینڈ ٹرینرز ویج سپورٹ سکیم کیلئے 150 کروڑ روپے اور گریز ، ٹنگڈار اور ٹیٹوال جیسے علاقوں کیلئے ہائی الٹی ٹیوڈ اینڈ ونٹر اسپورٹس روزگار پروگرام کیلئے 120 کروڑ روپے تجویز کئے ۔
وزیر موصوف نے واٹر اور ونٹر اسپورٹس پر خصوصی زور دیتے ہوئے بسوہلی ( کٹھوعہ ) میں رنجیت ساگر ڈیم پر موجودہ عالمی معیار کی سہولت کو اپ گریڈ کر کے نیشنل واٹر سپورٹس سینٹر آف ایکسلنس قائم کرنے کی درخواست کی ۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو بھارت کا نیشنل ہب فار پیڈل اینڈ واٹر اسپورٹس قرار دینے کی بھی تجویز دی جو اس کے بے مثال قدرتی واٹر وسائل کا فائدہ اٹھائے گا ۔ مسٹر ستیش شرما نے ہیرا نگر میں ارون جیٹلی انٹر نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم پروجیکٹ کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا ۔










