وادی میںسبزیوں کا سیزن عروج پر ہے اور آجکل کیاریوں میں مختلف قسم کی سبزیوں کی بہتات ہے لیکن اس کے باوجود بھی شہرودیہات کے بازاروں میں سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں ۔ اس سیزن میں باہر کی سبزیاں کم درآمد ہوتی رہتی ہیں کیونکہ اس سیزن میں بیشتر لوگوں کو مختلف قسم کی سبزیاں دستیاب ہوتی ہیں البتہ تقریباً 30 فیصدی شہرودیہات میں ایسے لوگ ہیں جن کے پاس یا توکھیتی باڑی کیلئے زمین میسر نہیں ہوتی ہے یا زمین دستیاب ہونے کے باوجود ان کے گھر میں کوئی کمانے والانہیں ہوتا ہے اورنہ مزدوروں کو اجرت دینے کی سکت ہوتی ہے ۔اس وجہ سے بہت سے لوگوں کو دوسرے مہینوں کی طرح اس سیزن میں بھی حسب معمول بازاروں سے ہی سبزیاں خریدنی پڑتی ہیں ۔آج بھی فراش بین ،کدو یا بینگن ،ساگ وغیرہ کی قیمتیں فی کلو40سے 80روپے تک رکھی گئی ہے جس پر لوگ نالاں وپریشان حال ہیں اور کوئی پُرسان حال نہیں ہے ۔اس سلسلے میں شہر ودیہات کے لوگوں نے کے پی ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ سرکار کی عدم توجہی کی وجہ سے بازاروں میں دکانداروں یا سبزیوں فروشوں کی من مانیاں عروج پر ہیں ۔کیونکہ ہر کوئی اپنی ریٹ لگا کر لوگوں کو لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نان گار لوگ بازاروں سے سبزی خریدنے کیلئے مجبور ہیں لیکن وہ جب بازار جاتے ہیں تو وہاں سرمایا خزان کی ریٹ پر ہی سبزیاں لاتے رہتے ہیں اور جن کے پاس مالی سکت نہیں ہوتی ہے تو وہ اپنے اہل وعیال کو اس مہنگائی کے باعث دو وقت کی روٹی فراہم نہیں کرسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں گذشتہ تین برسوں سے مالی حالات کافی ابتر ہیں اور لوگوں کی ایک خاصی تعداد نان شبینہ کی محتاج ہوگئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیزن شروع ہونے پر بالخصوص سبزیوں کی قیمتوں میں نمایاں فرق واقع ہوگی لیکن ایساممکن نہیں ہوسکا کیونکہ سرکار کی لاپرواہی کے باعث تاجر یا سبزی فروش بے لگام ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہر طرح لوگوں کو لوٹا جارہا ہے اور ہر طرف ہاہاکار ہے لیکن کوئی پُرسان حال نہیں ہے ۔انہو ں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ پر بیوروکیٹس اپنی دال گرم کرتے رہتے ہیں اور شور مچاتے ہیں کیونکہ اس سے ان کی مالیات متاثر ہوتی ہے لیکن سبزیوں یا خوردنوش کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام کیلئے بار گراں ثابت ہوتا ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے موجودہ گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ قیمتوں کو اعتدال پر لانے کیلئے ایک نرخ نامہ ( ریٹ لسٹ ) بغیر کسی تاخیر کے ترتیب دیا جائے اور تاجروں کو ان مرتب شدہ ریٹ لسٹس پر پابند بنانے کیلئے روزانہ مارکیٹ چیکنگ عمل میں لائی جائے تاکہ غریب عوام کا استحصال بند ہوسکے اور وہ بھی اپنی زندگی گذار سکیں گے ۔










