کشمیری مضمون کو 11ویں اور بارہویں جماعتوں میں متعارف کرنے کیلئے روڈ میپ پر کام جاری / ناظم تعلیمات کشمیر
سرینگر//ساہتیہ اکیڈیمی نئی دہلی اور کشمیر کنسرن کے باہمی اشتراک سے گورنمنٹ ماڈل ایس پی ہائراسکینڈری سرینگر میں جموں و کشمیر کے ایک مایہ نازسپوت ، انسانیت دوست ، صف اول کے ادیب وشاعراور جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کے بانی کارمرحوم عبدلخالق ٹاک زینہ گیری کی یاد میں ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ سماج اور کشمیری ادب و ثقافت کے تئیں ان کی نمایاں خدمات پر انہیں زبر دست خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کشمیر پریس سروس کے تفصیلات کے مطابق تقریب کی صدارت معروف براڈ کاسٹر اور سابق ڈائریکٹر ریڈیو کشمیر سید ہمایوں قیصر نے کی جبکہ ان کے ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن ڈاکٹر جی این ایتوبطور مہمان خصوصی اور نامور ادیب و اسکالر پروفیسر محمد زمان آزردہ , ساہیتہ اکیڈیمی کشمیری بورڈ کے کنوینر پروفیسر شاد رمضان، سابقہ جوائنٹ سیکریٹری فاروق احمد پیر ،کشمیر کنسرن ٹرسٹ اور اسلامک ریلیف اینڈ ریسرچ ٹرسٹ کے بانی کار ایڈوکیٹ عبدلرشید ہانجورہ،معروف براڈ کاسٹر محمد امین بٹ، پرنسپل ایس پی ہائراسیکنڈری اعجاز احمد ریشی بطور مہمانان ذی ایوان صدارت میں موجود تھے۔ اس موقعہ پر کشمیر کنسرن ٹرسٹ کی طرف سے رواں سال کا ٹاک زینہ گیری ایوارڈ چاڈورہ علاقہ کے ایک نامور شاعر عادل کرالہ واری کو بعد از مرگ عطا کیا گیا جو مرحوم کے بیٹے ڈاکٹر رئوف عادل نے حاصل کیا۔جبکہ ایک اور ٹاک میموریل ایوارڈ ڈاکٹر غضنفر علی غزل کو کشمیری , اردو اور انگریزی ادب و ثقافت کی خدمات کے اعتراف میں عطا کیا گیا۔ اس کے علاوہ ناظم تعلیم ڈاکٹرجی این ا یتو اور صدر محفل سید ہمایوں قیصر کوmementos پیش کئے گئے۔ایڈوکیٹ اے آر ہانجورہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور کشمیر کنسرن کا تعارف پیش کرتے ہوئے ٹاک زینہ گیری کی ادبی خدمات اور ان کے سماجی خدمات کو اجاگر کیا ۔ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن نے اس موقعہ پر مرحوم ٹاک زینہ گیری کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کا سماج کے تئیں ایک منفردکردار رہا ہے جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور ضرورت ہے کہ ٹاک زینہ گیری جیسا کردارہمارے سماج میں پیدا ہوتے رہیں تاکہ ہمارے سماج کے پسماندہ اور بے سہارا لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور محبت کارویہ اپنایا جاسکے ۔انہوں نے اپنی تقریر کے دوران کشمیر ی ودیگر مقامی زبانوں کے فروغ کے تئیں کہا کہ نئی قومی تعلیمی پالیسی میں مقامی زبانوں کے فروغ پر بہت زور دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری زبان کو 11ویں اور بارہویں جماعتوں کے سیلبس میں شامل کرنے کیلئے روڈ میپ پر کام سرعت سے جاری ہے جبکہ دسویں جماعت کے طلبہ کو پڑھانے کی بہت جلد شروعات کی جائے گی ۔انہوں نے آئندہ 19 اگست کو NEP پر منعقد ہونے والے دو روزہ قومی سمینار میں کشمیری زبان کی ترویج پر سنجیدگی سے غور کیا جائیگا۔انہوں نے ایڈوکیٹ ہانجورہ کے سماجی کاموں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ موصوف ہمہ تن گوش اس میں منہمک ہیں اور ان کے جذبہ وایثار نے انہیں بہت متاثر کیا ہے ۔ پروفیسر شاد رمضان نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کشمیری زبان کو اپنے روزمرہ بول چال میں ترجیحی بنیادوں پر استعمال کرنے کی اشد ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے کشمیری کو بھلادیا تو ہماری زبان کی شناخت اوراس کا محاورتی نظام ہی گم ہو جائے گا کیونکہ ادب و ثقافت کے طفیل ہی ایک قوم کی لسانیات اور محاورے کو زندہ جاوید رکھا جا سکتا ہے ۔اس موقعہ پر پروفیسر زمان آزردہ نے ٹاک زینہ گیری کی سماجی خدمات اور ان کی ادبی صلاحیتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم اپنی کام اور کارناموں خراج تحسین کے مستحق ہیں اور کہا کہ ایسے لوگ سماج کیلئے سرمایہ ہوتے ہیں ۔اپنے صدارتی خطبہ میں سید ہمایوں قیصر نے کشمیری زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ زبان یہاں صدیوں سے رائج ہے اب اس کی موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق ترویج لازمی بن گئی اور لوگوں کواس کیساتھ ہم آہنگ بنانے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ اس کو تعلیم میں شامل کیا جائے اور ٹیکنالوجی کی سطح پر لینا ضرورت بن گئی ہے تاکہ یہ وسیع سے وسیع تر ہوتی جائے گی ۔پرنسپل اعجاز احمد ریشی نے تحریک شکرانہ پیش کیا ۔ تقریب میں اہم شخصیات کے علاوہ اسکول کے اساتذہ اورطلباء وطالبات نے شرکت کی










