سال 2025جموں وکشمیر کی معیشت ، اقتصادیات ، سیاحت ،سیب صنعت کیلئے منحوس سال ثابت ہوا

بیسرن حملے ، دہلی اور نوگام دھماکوں نے تباہی مچادی جبکہ سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کردی

سرینگر/اے پی آئی// سال 2025تلخ یادیں چھوڑ کر رخصت ہوا ، جموں وکشمیر میں سا ل 2025کے دوران جہاں ناگہانی آفتوں نے انسانی جانیں ضائع کردیں اور اربوں روپے مالیت کی جائیداد کو نقصان پہنچایا وہیں دہلی کاربم دھماکے ، نوگام پولیس اسٹیشن دھماکے اور بیسرن پہلگام کے بدترین دہشت گردی کے واقعے نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔ اے پی آئی نیوز کے مطابق سال 2025بھی جموں وکشمیر کیلئے منحوس سال ہی ثابت ہوا ۔ اگر چہ سال کے افتتاح کے دوران اس بات کا یقین ہوا کہ یہ سال جموں وکشمیر کی سیاحت ، معایشت ، اقتصادیات ، بے روزگاری کے خاتمے ، لوگوں میں اعتماد بحال ہونے ، امن قائم رہنے کا سال ثابت ہوگا تاہم سال کے چوتھے مہینے اپریل جب وادی کشمیر میں سیاحت جوبن پر تھی بیسرن پہلگام کے علاقے میں دہشت گردی کا بدترین واقعہ رونما ہوا ۔ دہشت گردوں نے نہتے سیاحوں پر اندھا دھند گولیاں چلائیں ۔ 26کے قریب سیاح اور ایک مقامی شہری اس بدترین دہشت گردی کے واقعہ کے دوران مارے گئے اور وادی کشمیر میں سیاحتی صنعت ٹھپ ہوگئی ۔ بیسرن پہلگام حملے نے بھارت ، پاکستان کے مابین تنائو ، کشیدگی کا سلسلہ شروع کیا ۔بھارت نے 7مئی کو بہاولپور ، کوٹلی ، مظفرآباد میں دہشت گردی کے 9ٹھکانوں پر حملہ کر کے ایک 100کے قریب دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کیا ۔ بھارت پاکستان کے مابین جنگ چھڑ گئی اور اس جنگ سے سب سے زیادہ متاثر جموں وکشمیر ہوا۔ بھارت پاکستان کے مابین سیز فائر کا اعلان ہونے کے بعد لوگوںنے پھر سے زندگی کو پٹری پر لانا شروع کردیا کہ اگست کے مہینے میں چشوٹی کشتواڑ کے علاقے میں بادل پھٹنے سے 100کے قریب لوگ ملبے کے نیچے دب گئے ۔ 60کے قریب افراد کی نعشیں نکالی گئیں جبکہ 30ابھی بھی لاپتہ ہیں ۔ بادل پھٹنے سے کشتواڑ میں سینکڑوں مکانوں کو نقصان پہنچا ، کروڑوں روپے مالیت کی املاک تباہ و برباد ہوئی ۔ بادل پھٹنے کے بعد جموں صوبہ میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ صوبہ جموں میں سیلاب نے تباہی و بربادی کا سلسلہ شروع کردیا ۔ 800کے قریب رہائشی مکان تباہ و برباد ہوئے ۔ ماتا ویشنو دیوی میں پسیاں گرآنے سے 30افراد زندہ ملبے کے نیچے دب کر مارے گئے اور 74ہزار ہیکٹر پر جموں وکشمیر میں سیلاب نے پھیلی فصلوں کو سیلاب نے تباہ و برباد کردیا۔ موسلادھار بارشیں سے جموں سرینگر شاہراہ پر15دن تک گاڑیوں کی آمد ورفت معطل رہی ۔ تین ہزار کے قریب سیب سے لدھی ہوئی گاڑیاں درماندہ ہوئیں اور سیب صنعت کو 300سے لیکر 450کروڑ روپے کے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق موسلادھار بارشوں سے جموں وکشمیر میں 8ہزار کے قریب رہائشی مکانوں ، دوکانوں ، ہوٹلوں کو نقصان پہنچا ،199افراد مارے گئے اور اربوں روپے مالیت کی جائیداد تلف ہوئی ۔ 12ہزار کے قریب مویشی لقمہ اجل ہوئے ۔ ابھی سیلاب کی مصیبت سے لوگ نکل ہی رہے تھے کہ نومبر کے مہینے میں لال قلعہ دہلی کار بم دھماکہ ہوا ،13افراد اس دھماکے میں مارے گئے جبکہ 20زخمی ہوئے ۔ دہلی کار بم دھماکے کی گونج ابھی کانوں میں ہی بھج رہی تھی کہ نوگام پولیس اسٹیشن میں بارودی مواد پھٹنے سے 9پولیس اور عام شہری مارے گئے ۔ 15کے قریب زخمی ہوئے جو اب بھی زیر علاج ہیں۔ 2025میں عسکریت پسندئوں اور پولیس و فورسز کے مابین تصادم آرائیوں کے 60سے زیادہ واقعات رونما ہوئے جس کے دوران 46عسکریت پسند مارے گئے ۔ تاہم سال 2025کے دوران عسکریت پسندئوں اور پولیس و فورسز کے مابین تصادم آرائیوںاور عام شہریوں کی ہلاکتوں میں کافی کمی آئی ۔