وکاس ترویدی
ایک کہانی، کئی کردار، کئی لوگوں کی محنت۔۔۔ تب ہی جا کر کوئی فلم تیار ہوتی ہے۔ ایسی فلمیں، جنھیں لاتعداد بار ’معاشرے کا آئینہ‘ کہا گیا ہے۔لیکن ماضی میں یہ آئینہ کتنا دھندلا یا صاف ہو چکا ہے؟ اس آخری فلم کو یاد کریں، جسے دیکھ کر آپ نے مذاہب کے درمیان خلیج کو مٹھاس سے بھرتے یا تلخی پیدا کرتے دیکھا؟ اس کہانی میں ہم سنہ 2022میں ریلیز ہونے والی ان فلموں میں سے کچھ کے بارے میں بات کریں گے، جن کے کسی بھی سین یا فلم کے پس منظر میں مذہب تھا۔ایسے وقت میں جب گانے میں پہنے جانے والے کپڑوں کا رنگ مذہب کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو ایسی فلموں کا ذکر کرنا ضروری ہے جن کی کہانی میں یا پس منظر میں مذہب ہو۔لیکن پہلے ماضی کی ان فلموں پر ایک نظر ڈالیں جن میں مذہبی ہم آہنگی بڑھانے اور موجودہ دور کی تلخیوں کو دکھانے کی کوشش کی گئی۔سنہ 1941میں وی شانتارام کی فلم ’پڑوسی‘ ریلیز ہوئی۔ فلم کے پہلے ہی سین میں جب مرزا نماز پڑھنے آتا ہے تو اس وقت پنڈت ٹھاکر رامائن پڑھتے ہوئے اٹھتے ہیں۔مرزا پوچھتے ہیں:’ٹھاکر کیوں اُٹھے، اب تمھیں رامائن پڑھنے پر زیادہ توجہ دینی چاہیے؟‘ پنڈت نے جواب دیا: ’مجھے مزید پڑھنا چاہیے مگر آپ کی نماز قضا ہو جائے گی تو ایسے میں اپنے آپ کو ہی کوسوں گا۔‘اس منظر کی خوبصورتی یہ بھی ہے کہ فلم میں پنڈت کا کردار مظہر خان نے ادا کیا تھا اور مرزا کا کردار گجانن جاگیردار نے ادا کیا تھا۔یہ اس دور کی فلم ہے، جب مذہب کی بنیاد پر پاکستان بنانے کی تیاریاں عروج پر تھیں۔فلم کی کہانی یہ تھی کہ ڈیم بنانے کے لیے آئے ایک انجینیئر کے منصوبے کی وجہ سے کیسے دو ہندو مسلم دوست، دشمن بن جاتے ہیں۔ یہ دشمنی تب ختم ہوتی ہے جب گاؤں کا نیا ڈیم بھی ٹوٹ جاتا ہے۔سنہ 1946میں پی ایل سنتوشی کی ’ہم ایک ہیں‘ بھی ایسی ہی ایک فلم ہے۔ فلم میں ادارکارہ درگا کھوٹے ایک زمیندار ماں کے کردار میں تین مختلف مذاہب کے بچوں کی پرورش کرتی ہیں۔یہ تینوں بچے اپنے اپنے مذاہب پر چلتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ دیوآنند نے اپنے کیریئر کی شروعات فلم ’ہم ایک ہیں‘ سے کی تھی۔سنہ 1959میں فلم ‘دھول کا پھول‘ کی کہانی میں ایک مسلمان شخص عبدل جنگل سے ملنے والے ایک بچے کی پرورش کرتے ہیں اور اس ’ناجائز‘ بچے کی وجہ سے وہ خود معاشرے سے بے دخل ہو جاتے ہیں۔ ایک بچے کی پرورش کے دوران فلمائے گئے گانے میں عبدل کہتے ہیں: ’تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا، انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا۔۔۔‘ کیا آپ نے پچھلے کچھ برسوں میں اس طرح کا کوئی نیا گانا یا ڈائیلاگ سنا ہے؟اس فہرست میں تین بھائیوں ’امر، اکبر، انتھونی‘ کی زندگی گزارنے کی کہانی بھی سکرین پر نظر آئی۔ ہندو مسلم فسادات یا دونوں ممالک کی تقسیم کے دکھوں کو بیان کرتے ہوئے کئی اور فلمیں بھی بنائی گئی ہیں۔ یہ فہرست بہت طویل ہو سکتی ہے۔ لیکن جن فلموں نے اپنا اثر چھوڑا وہ بہت کم ہیں۔
بلراج ساہنی کی فلم ‘گرم ہوا‘ ملک چھوڑنے کے درد کو بیان کرتی ہے۔ فلم کا مؤثر کلائمکس مذہب کی بنیاد پر ملک چھوڑنے سے زیادہ ضروری روزگار جیسی ضروریات کو ظاہر کرتا ہے۔ایسی ہی کچھ اور فلمیں ‘پِنجر‘، ‘ٹرین ٹو پاکستان‘ اور ‘تمس‘ ہیں۔بابری مسجد کے انہدام کے بعد سنہ 2002کے فسادات کے پس منظر پر بنی منی رتنم کی ‘بمبئی‘، ‘فراق‘، ‘دیو اور ‘پرزانیہ‘ جیسی فلمیں بھی سامنے آئیں۔فلم ‘بمبئی‘ کے کلائمکس میں انھیں ہاتھوں سے ہتھیار پھینک کر ہاتھ ہلانے پر مجبور کیا گیا۔، جس سے اجتماعی قتل ہوا۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں سنیما سٹڈیز کی پروفیسر ایرا بھاسکر نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ’بمبئی فلم کے آخر میں یہ خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ دونوں برادریوں کے درمیان ہم آہنگی ہونی چاہیے۔‘ان کے مطابق ہندو مسلم مسئلہ محض چند ایسے مناظر سے ختم تو نہیں ہو جائے گا۔ مگر یہ ضرور ہے کہ اس کے بعد آپ کی سوچ بنتی ہے کہ حقیقت میں ایسا ہی ہونا چاہیے اور مل کر اتفاق سے ساتھ رہنا چاہیے۔ان فلموں میں اس دور کی حقیقت کو دکھانے کی کوشش کی گئی۔فلم ‘سرفروش’ کے کردار انسپکٹر سلیم (مکیش رشی) کو اے سی پی اجے سنگھ راٹھور (عامر خان) سے کہنا پڑا کہ بچنے کے لیے 10 نہیں، 10 ہزار سلیم ملیں گے۔ اگر بھروسہ ہے تو پھر کبھی کسی سلیم کو یہ نہ کہنا کہ یہ ملک اس کا گھر نہیں ہے۔‘سنہ 2006 کی فلم ‘رنگ دے بسنتی’ میں لکشمن پانڈے (اتل کلکرنی) اور اسلم (کنال کپور) کا کردار ہندو مسلم کی دوری دکھا کر شروع ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ قربت میں بدل گیا۔ایک ایسے وقت میں جب فلموں کی ریلیز پر بحران کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور مقدمات قائم ہونے کا خوف برقرار ہے۔ پھر ‘رنگ دے بسنتی’ سے متعلق ایک قصہ سنانا ضروری ہو جاتا ہے۔’رنگ دے بسنتی’ کی کہانی طاقت کے حلقوں اور ’نہتا بابو گینگ‘ کے کردار پر سوالات اٹھاتی ہے۔فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کے حادثے اور ملک کے وزیر دفاع پر تنقیدی تبصرہ کرنے والی یہ فلم ریلیز سے قبل اس وقت کے وزیر دفاع پرنب مکھرجی سمیت فوج کے سربراہ کو دکھائی گئی۔پرنب مکھرجی فلم دیکھ کر اٹھے اور کہا ‘میرا کام ملک کی حفاظت کرنا ہے نہ کہ فلموں کو سنسر کرنا۔۔ بچوں نے اچھا کام کیا ہے۔’ملک کے اس وقت کے وزیر دفاع یہ اس فلم کے لیے کہہ رہے تھے، جس کی کہانی میں وزیر دفاع کو کرپشن کی وجہ سے گولی مار دی گئی تھی۔سنہ 2002 کے فسادات کے پس منظر والی فلم ’کائے پُو چھ‘ بھی اپنا اثر چھوڑنے میں کامیاب رہی۔ نفرت کی آگ کتنی جلتی ہے اور دماغ کو خود پسندی سے بھر دیتی ہے۔۔۔ فلم ‘کائے پو چھ’ کے کردار اس کی بہترین مثال ہیں۔خاص طور پر ایشان، جو ایک مسلمان بچے علی کو بچانے کی کوشش میں اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے اور آخر میں، جرم سے بھرا ہوا اومی۔ جس کے ٹپکتے ہوئے آنسو بتاتے ہیں کہ کبھی کبھی آنسو کے ایک قطرے سے سب سے بڑی آگ بجھائی جا سکتی ہے۔سنہ 2012 کی ‘اوہ مائی گاڈ’ اور متنازع ‘پی کے’ جیسی فلمیں ان لوگوں کو بھی بے نقاب کرتی ہیں جو مذہب پر یقین رکھنے والے لوگوں کے درمیان فاصلے پیدا کرتے ہیں۔پروفیسر ایرا نے حالیہ فلمی تنازعات پر کہا کہ ’کیا ہم ایران اور چین جیسا بننا چاہتے ہیں؟ جب انڈیا سنیما کے 100 سال میں ایسا نہیں ہوا تو اب ایسا کیوں ہو رہا ہے، سوچنا چاہیے۔‘اب سوال یہ ہے کہ سنہ 2022 میں وہ کون سی فلمیں تھیں جن میں کہیں یا پس منظر میں مذہب موجود تھا اور ان کے ذریعے کیا پیغام دینے کی کوشش کی گئی یا سوشل میڈیا کے دور میں عوام میں کیا پیغام گیا؟ایسی ہی کچھ فلموں پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔راجامولی کی فلم ‘RRR’ کے ایک سین میں این ٹی آر جونیئر اور رام چرن کے درمیان ایک مکالمہ ہے جس سے ‘باہوبلی’ ہٹ ہوئی۔اس منظر میں راجو (رام چرن) اپنے دوست اختر (این ٹی آر جونیئر) کے لیے میخیں لگا کر جینیفر کی کار کو روکتا ہے۔جیسے ہی اسے گاڑی کے رکنے یعنی ٹائر پنکچر ہونے کا علم ہوا، اختر کہتے ہیں: ‘اب میں اس کا پنکچر ٹھیک کروں گا، وہ کہے گی شکریہ اور پھرہماری بات چیت شروع ہو جائے گی۔’اختر جینیفر سے بھی کہتا ہے: ‘میری دکان قریب ہی ہے، میں اسے پانچ منٹ میں ٹھیک کر دوں گا۔’ اگر پورے تناظر میں دیکھا جائے تو اس سین میں فلم کے صرف دو کرداروں کے ملاپ کے امکانات ہیں۔چونکہ آپ نے مسلمانوں کے پنکچر کے کام سے متعلق لاتعداد پیغامات یا تبصرے پڑھے ہوں گے، اس لیے لوگوں نے اس منظر کی مختلف تشریح کی۔










